Preloader

کیلیفورنیا : امریکا میں کی جانے والی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گھر کا غیریقینی اور انتشار زدہ ماحول شیر خوار بچوں کے دماغ کو شدید متاثر کرتا ہے۔

نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گھر کے ماحول میں غیریقینی، بےقاعدگی اور عدم استحکام شیر خوار بچوں کی توجہ، دماغی سرگرمی اور جذباتی نظم و ضبط پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

کیلیفورنیا یونیورسٹی اروائن میں کیے جانے والے 3 مطالعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ گھر کے ماحول میں سماجی معمولات اور مستقل مزاجی بچے کی ابتدائی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

تحقیق کے مطابق گھریلو عدم استحکام کا تعلق صرف مالی وسائل کی کمی سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق روزمرہ زندگی میں غیریقینی حالات سے بھی ہے۔

کم آمدنی والے خاندان محدود وسائل کے باوجود بچوں کے لیے مستقل معمولات قائم کرکے ایک مستحکم ماحول فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ زیادہ خوشحال خاندانوں میں بھی اگر گھر کا ماحول غیر متوقع اور بے قاعدہ ہو تو بچے متاثر ہوسکتے ہیں۔

بچوں کی توجہ کا انداز

پہلی تحقیق میں 160 شیر خوار بچوں کا ان کے گھروں میں ویب کیم کے ذریعے مشاہدہ کیا گیا، ایسے گھروں سے تعلق رکھنے والے بچے جہاں خوراک یا رہائش کے حوالے سے غیریقینی صورتحال موجود تھی، بصری سرگرمیوں کے دوران اردگرد زیادہ دیکھتے پائے گئے۔

محققین کے مطابق یہ رویہ کسی خرابی کی علامت نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایک مطابقتی ردعمل ہے، جس کے ذریعے بچے غیر یقینی ماحول میں اپنے اردگرد سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بے قاعدہ نگہداشت اور دماغی سرگرمی

دوسری تحقیق میں 3 ماہ کی عمر کے 104 بچوں اور ان کے نگہداشت کرنے والے سرپرستوں کے باہمی رویوں کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن بچوں کے نگہداشت کرنے والے بات چیت، چھونے اور آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے جیسے رویوں کے درمیان تیزی سے اور غیر متوقع انداز میں تبدیلی کرتے تھے، ان بچوں کے دماغ کے اگلے حصے میں سرگرمی نسبتاً کم تھی، جبکہ دل کی دھڑکن میں تبدیلی کی شرح بھی کم دیکھی گئی۔

محققین کے مطابق اس بات سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر بچے کو مستقل سماجی معمولات میسر نہ ہوں تو وہ کم عمری ہی میں توجہ مرکوز کرنے اور معلومات کو سمجھنے میں مشکلات کا سامنا کرسکتا ہے۔

ماں کے دودھ کا اہم کردار

تیسری تحقیق میں ماں کے دودھ میں قدرتی طور پر پائے جانے والے مرکب ایلوپریگنانولون کا جائزہ لیا گیا، جو ممکنہ طور پر ماں کے ذہنی دباؤ کے بعض اثرات سے بچے کو تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

محققین کے مطابق اس مرکب نے بعد از زچگی ڈپریشن کے بچے کی جذبات کو منظم کرنے کی صلاحیت پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کا امکان ظاہر کیا۔

تاہم محققین نے زور دیا کہ اس دریافت کا مقصد ماؤں پر دودھ پلانے کے حوالے سے مزید دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ماؤں کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔

تحقیق کے مجموعی نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ معیاری نگہداشت، مستحکم رہائش، والدین کے لیے مناسب چھٹی اور گھر میں مستقل معمولات بچوں کی دماغی اور جذباتی نشوونما کے لیے اہم ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچے اس وقت بہتر نشوونما پاتے ہیں جب انہیں ایک ایسا ماحول میسر ہو جس میں روزمرہ کے سماجی معمولات نسبتاً مستقل اور قابلِ عمل ہوں، کیونکہ یہی مستقل مزاجی ان کی سیکھنے اور جذباتی نظم و ضبط کی بنیاد بنتی ہے۔

لڑکوں میں آٹزم کا خطرہ لڑکیوں سے زیادہ کیوں؟ وجوہات سامنے آگئیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *