پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹرگوہر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو جواب دے دیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سےگفتگو میں بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ علیمہ خان جاننا چاہ رہی ہیں کہ کانفرنس کال پر دوسرا کون تھا، کانفرنس کال پر دوسرا آدمی ہماری جانب سے سہیل آفریدی تھا۔
بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ ہم ہرلمحے اور منٹ کے حساب سے اپ ڈیٹ سے آگاہ کر رہے تھے، علیمہ خان کو ہر منٹ کی خبر دی گئی تھی، ان کو سب بتایا گیا تھا، میرے ساتھ ان لوگوں کے بندوں کے علاوہ کانفرنس کال پر سہیل آفریدی تھے، علیمہ خان چاہ رہی تھیں کہ نام لینا ہے، میں نے وہ نام لے لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے فیملی کی محبت اپنی جگہ لیکن پارٹی قیادت بھی ڈٹ کر کھڑی ہے، بہنیں قیادت پر شک نہ کریں، سب بانی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پارٹی ایسے ریلیکس ہے جیسے بانی کا علاج ہوگیا ہے، بانی کی صحت کے معاملے پر پی ٹی آئی کی طرف سے کچھ ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہے، بس بہت ہوگیا جو بانی کے بیانیےکا بوجھ نہیں اٹھاسکتا، وہ سائیڈ پر ہو جائے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ جو باتیں محسن نقوی سے پتا چل رہی ہیں وہ بیرسٹرگوہر سے پتا چلنی چاہیے تھیں، مجھے ابھی تک نہیں پتہ کہ کانفرنس کال پر کون تھا، جو جو چیز یہ کہہ رہے تھے میں اسے سوشل میڈیا پرپوسٹ کرکے پبلک کر رہی تھی، بانی نےکئی بار کہا کہ میرے وکلا سےکہیں کہ میرے کیسز لگوائیں، ہم آ کر بیٹھ سکتی ہیں تو وکلا کیوں نہیں آتے؟
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر کہاں غائب ہیں؟ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہ لگوا سکے ، ہم اچھی طرح جانتے ہیں پارٹی میں غدار کون ہے، شرم ناک ہےکہ پارٹی رہنما اکیلے محسن نقوی سے رابطے کرتے رہے۔


























Leave a Reply