گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہاں بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو ختم یا محدود کیا جائے گا۔
آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے 2025 کے آخر میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
مگر دیگر متعدد ممالک کی جانب سے اسی طرح کے منصوبے تیار کیے گئے ہیں یا تجاویز سامنے آئی ہیں۔
اس پابندی کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو ذۃنی صحت کے امراض اور دیگر مسائل سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
تو ایسے ممالک کے بارے میں جانیں جہاں بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے یا پہلے ہی پابندی عائد کی جاچکی ہے۔
آسٹریلیا
آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی۔
اس پابندی کے تحت بچوں کے لیے فیس بک، انسٹا گرام، اسنیپ چیٹ، تھریڈز، ٹک ٹاک، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب اور ریڈیٹ وغیرہ کو بلاک کیا گیا۔
البتہ اس میں واٹس ایپ یا یوٹیوب کڈز کو شامل نہیں کیا گیا۔
آسٹریلین حکومت کے مطابق جو سوشل میڈیا ایپ اس پابندی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے میں ناکام ہوگی اس پر 3 کروڑ 44 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
حکومت نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے متعدد طریقہ کار استعمال کیے جائیں اور صارف کی جانب سے درج کی جانے والی عمر پر انحصار نہ کیا جائے۔
ڈنمارک
ڈنمارک کی جانب سے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے نومبر 2025 میں اعلان کیا تھا کہ اس پابندی کے حوالے سے حکومتی اتحاد میں شامل 3 جماعتیں اور حزب اختلاف کی 2 جماعتیں متحد ہوگئی ہیں۔
اس حوالے سے قانون 2026 کے وسط میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ عمر کی تصدیق کے لیے ایک ایپ بھی متعارف کرانے پر کام کیا جا رہا ہے۔
فرانس
جنوری 2026 میں فرانسیسی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں تک سوشل میڈیا کی رسائی کو بلاک کیا جائے گا۔
فرانس کے صدر نے اس بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں کو اسکرینوں سے دور رکھنے میں مدد ملے گی۔
ابھی اس بل کو ایوان بالا میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد ایک بار پھر ایوان زیریں میں اس کی منظوری دی جائے گی۔
جرمنی
فروری 2026 کے شروع میں جرمن چانسلر کی جماعت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی تجویز پر مشاورت شروع کی۔
مگر واضح نہیں کہ اس کی منظوری دی جائے گی یا نہیں کیونکہ حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں مکمل پابندی کی حمایت کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔
یونان
فروری 2026 کے شروع میں ایک میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یونان کی جانب سے بہت جلد 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا جائے گا۔
ملائیشیا
ملائیشیا کی حکومت نے نومبر 2025 میں کہا تھا کہ وہ 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
ملائیشیا کی جانب سے رواں سال کسی وقت اس پابندی کا اطلاق کیے جانے کا امکان ہے۔
سلوانیا
سلوانیا کی جانب سے اس حوالے سے ایک قانون کا مسودہ تیار کیا گیا ہے۔
یہ اعلان سلوانیا کے ڈپٹی وزیراعظم نے فروری 2026 کے شروع میں کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے شیئر کیے جانے والے مواد کو ریگولیٹ کرنے کی بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔
اسپین
اسپین کی حکومت نے بھی فروری 2026 میں اعلان کیا تھا کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے بل کو پارلیمان سے منظور کرانے کی ضرورت ہے۔
حکومت کی جانب سے ایک ایسے قانون پر بھی غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ پر ان کمپنیوں کے عہدیداران کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے۔
برطانیہ
برطانیہ کی جانب سے بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی کو ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے حکومت کی جانب سے شراکت داروں سے مشاورت کی جا رہی ہے۔


























Leave a Reply