جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن حامد میر نے ٹھوس دستاویزی ثبوت پیش کیے ہیں جن کے مطابق اسرائیل بلوچستان کے راستے ایران میں مداخلت کرنا چاہتا ہے۔
پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان حامد میر نے ٹھوس دستاویزی ثبوت پیش کیے۔ انہوں نے اسرائیلی اخبار ٹائمز آفس اسرائیل کا حوالہ دیا جس میں شائع شدہ مضمون میں بتایا گیا کہ بلوچستان ایران کے بارڈر پر ہے، بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرکے اسرائیل وہاں سے ایران میں مداخلت کرنا چاہتا ہے۔
حامد میر نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کا حوالہ بھی دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل بلوچستان کی صورتحال کو ہائی جیک کرنا چاہتا ہے، اسرائیل کی جانب سے بلوچستان میں مداخلت کا اصل مقصد ایران کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔
اس موقع پرحامد میر نے انکشاف کیا کہ انہیں بلوچستان کے ایک اہم سیاستدان نے خود بتایا کہ ان کا بھائی گزشتہ کچھ عرصے میں 3 مرتبہ اسرائیل جاچکا ہے اور اب وہ ایک مغربی ملک میں مقیم ہے، اس مغربی ملک نے بلوچستان کے حالیہ واقعات پر سخت بیان بھی جاری کیا ہے۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ اس سیاستدان کے بھائی اسی مغربی ملک سے اسرائیل جاتے ہیں اور واپس آتے ہیں لیکن ان کے پاسپورٹ پر اسٹیمپ بھی نہیں لگتی۔ ان کا تعلق ایسی پارٹی سے ہے جو بلوچستان کے حقوق کی علمبردار سمجھی جاتی ہے۔
حامد میر کا کہنا تھا کہ بنگلادیش کی جو موجودہ صورتحال ہے اس سے بلوچستان کے لوگوں کو سبق سیکھنا چاہیے، اپنے حقوق کے لیے آئین کے مطابق پرامن آواز اٹھانی چاہیے لیکن اگر اس جدوجہد میں اسرائیل اور بھارت شامل ہوگا تو وہ جدوجہد بےکار جائےگی۔
پروگرام میں مسلم لیگ ن کے زرین مگسی، جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور بی اے پی کے کہدہ بابر نے اتفاق کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ساتھ ساتھ اسرائیل بھی ملوث ہے
بلوچستان اسمبلی کے رکن صوبائی اسمبلی نوابزادہ زرین مگسی نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں مرنے والے دہشت گردوں کی تعداد 200 ہوگئی ہے۔
بی اے پی کے سینئر نائب صدر کہدہ بابر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اچھی خارجہ پالیسی کی وجہ سے دنیا سمجھ چکی ہے کہ معاملہ کیا ہے۔ بلوچستان تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اسی وجہ سے بلوچستان کو سازشوں کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور بھارت کو بلوچوں سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے؟ بنیادی طورپر وہ پاکستان کے خلاف ہیں اور ہم بلوچوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، ہمارے نوجوانوں کو استعمال کر رہے ہیں، ہمیں عوام میں جانا چاہیے اور انہیں بتانا چاہیے کہ یہ جو کچھ ہورہا ہے وہ بلوچوں کی محبت اور ہمدردی میں نہیں ہورہا،چار پانچ سو لوگوں کے ساتھ آپ کچھ نہیں کرسکتے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا محل وقوع انتہائی اہم ہے جس کی وجہ سے دشمنوں کی نظر ہم پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور دیگر ممالک بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کو دہشت گرد تو مانتے ہیں تاہم وہ داعش کے علاوہ کسی اور تنظیم کے خلاف ہماری مدد نہیں کرتے۔ دہشت گرد تنظیموں کے پاس امریکی اسلحہ بھی موجود ہے، اگر امریکا اور دیگر ممالک انہیں دہشت گرد مانتے ہیں تو انہیں ان کی امداد کے راستے بھی بند کرنے چاہئیں۔


























Leave a Reply