الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال موجودہ عہد میں کافی زیادہ ہوتا ہے۔
مگر ایک نئی تحقیق میں انہیں پھلوں یا سبزیوں کے مقابلے میں صحت کے لیے سگریٹ سے ملتا جلتا قرار دیا گیا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی سمیت دیگر امریکی یونیورسٹیوں کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سگریٹ اور الٹرا پراسیس فوڈز دونوں اس طرح تیار کیا جاتا ہے کہ لوگ انہیں کسی لت کی طرح استعمال کریں۔
50 ممالک میں سامنے آنے والے شواہد میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال کو موٹاپے، اعصابی و دماغی تبدیلیوں، میٹابولک افعال متاثر ہونے اور دیگر سنگین امراض سے منسلک کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ہارورڈ، ڈیوک اور مشی گن یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ سگریٹ اور الٹرا پراسیس غذائیں تیار کرنے والی کمپنیاں ریگولیشن کی خلاف ورزی کے لیے ملتی جلتی حکمت عملیوں کو اپناتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ کچھ الٹرا پراسیس غذاؤں کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں کہ وہ صحت کے لیے مفید ہوتی ہیں اور ان کی مارکیٹنگ میں بھی ایسے دعوے کیے جاتے ہیں۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ سگریٹ اور الٹرا پراسیس غذاؤں دونوں میں ایسے مواد موجود ہوتا ہے جو لوگوں کی طلب بڑھاتا ہے۔
جیسے سگریٹ میں نکوٹین ہوتا ہے جبکہ الٹرا پراسیس غذاؤں میں ریفائن کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
محققین کے مطابق اگرچہ 20 ویں صدی میں تمباکو نوشی کے استعمال کی شرح میں نمایاں کمی لانے میں کامیابی حاصل ہوئی مگر الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے کیونکہ ان کے حوالے سے قوانین سے زیادہ سخت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح تمباکو نوشی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے، اسی طرح الٹرا پراسیس غذاؤں سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل The Milbank Quarterly میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply