فالج ایسا مرض ہے جس کے شکار فرد کا فوری علاج نہ ہو تو موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
فالج کی 2 اقسام ہیں ایک برین ہیمرج جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے جبکہ دوسری قسم میں دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہوجاتی ہے جس سے آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) کے مطابق فالج کا سامنا ہر فرد کو ہوسکتا ہے مگر اس کا خطرہ ہر فرد کے لیے مختلف ہوتا ہے۔
55 سال کی عمر کے بعد ہر 10 سال بعد فالج کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے جبکہ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے اور ہائی کولیسٹرول سے بھی فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ چند غذاؤں کا استعمال عادت بنا کر فالج سے متاثر ہونے کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔
جو کا دلیہ
ہارورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دلیے پر مشتمل غذا کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے اور بلڈ شوگر لیول کو متوازن کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
بلڈ کولیسٹرول کی سطح بڑھنے سے دماغ کی جانب جانے والی شریانوں میں ‘چکنائی یا چربیلا مواد’ جمع ہوتا ہے۔
یہ مواد فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
دلیے میں جس قسم کا فائبر پایا جاتا ہے وہ کولیسٹرول کو صحت مند سطح میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
مچھلی
ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ہفتے میں تین بار مچھلی کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں فالج کا خطرہ 6 سے 12 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
مچھلی میں موجود اومیگا 3 فیٹی ایسڈز شریانوں کا ورم کم کرنے کے ساتھ ساتھ خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں جبکہ خون جمنے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
زیادہ مچھلی کھانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ سرخ اور پراسیس گوشت کم کھارہے ہیں جو کہ شریانوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بننے والی غذائیں ہیں۔
شکر قندی
شکرقندی میں موجود وٹامن سی اور وٹامن بی 6 کے ساتھ پوٹاشیم موجود ہوتا ہے۔
پوٹاشیم وہ جز ہے جو بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے اور اگر آپ کو علم نہ ہو تو جان لیں کہ ہائی بلڈ پریشر سے فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔
اسی طرح شکرقندی میں فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
کیلے
کیلوں میں موجود پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ پوٹاشیم بلڈ پریشر کی سطح میں کمی لاتا ہے اور فالج سے متاثر ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔
پالک
پالک آئرن، فائبر، وٹامن اے اور سی سے بھرپور سبزی ہے۔
یہ پوٹاشیم کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے جو کہ بلڈپریشر کی سطح میں کمی لانے والا جز ہے جبکہ شریانوں کی صحت بھی بہتر بناتا ہے، جس سے فالج کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔
بادام
بادام کھانے کی عادت جسم میں نقصان دہ کولیسٹرول ایل ڈی ایل کی سطح میں کمی لاتی ہے اور صحت کے لیے مفید کولیسٹرول ایچ ڈی ایل کی سطح بڑھاتی ہے۔
اسی طرح بادام کھانے سے بلڈ پریشر کی سطح میں بھی کمی آتی ہے جس سے بھی امراض قلب اور فالج سے مزید تحفظ ملتا ہے۔
ڈارک چاکلیٹ
چاکلیٹ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جن سے خون کی شریانوں کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بلڈ کلاٹنگ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈارک چاکلیٹ کھانے سے فالج سے متاثر ہونے کا خطرہ 17 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔
ٹماٹر
ٹماٹر بھی فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
اس میں موجود لائیکوپین نامی اینٹی آکسائیڈنٹ فالج سے متاثر ہونے کا خطرہ 50 سے 60 فیصد تک کم کر دیتا ہے۔
مالٹے
اس پھل کو روزانہ کھانے یا اس کے جوس کا ایک گلاس پینے سے بھی فالج اور امراض قلب کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔
مالٹے وٹامن سی سے بھرپور پھل ہے جو کہ فالج کا خطرہ کم کرتا ہے خصوصاً اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں۔
مالٹوں سے ہٹ کر یہ فائدہ اسٹرابری سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔


























Leave a Reply