سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس میں ممبران نے ایف بی آر پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
حکام وزارت تجارت نے بتایا کہ وزارت تجارت نے بارٹر ٹریڈ کے لیے ایس آراو اکتوبر میں جاری کردیا، وی بوک کے لیے ماڈیول ابھی تک ایف بی آر نے تیار نہیں کیا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ یہ بہت بڑی نااہلی ہے، ایف بی آر سے پوچھا جائے۔
سینیٹر طلحہ محمودکا کہنا تھا کہ ایف بی آر تاتاری لشکر کی طرح ہے، جہاں جاتا ہے تباہی پھیر دیتا ہے، ایف بی آر میں چنگیز خاں کو کلہاڑا دے کر بٹھایا گیا ہے، سنا ہے جب چیئرمین ایف بی آرکو بتایا جاتاہے کہ فلاں شعبہ ٹیکس کے باعث مشکل میں ہے تو وہ خوش ہوتا ہے، ایف بی آر کے قابل افسران باہربیٹھے ہیں اور واپڈا سے ایک شخص کو ایف بی آر میں بٹھا دیا ہے۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو طلب کرکےکہا جائےکہ معاملہ حل کریں۔
سینیٹر فیصل سلیم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل چل رہی تھیں، ان کی برآمدات بھی اب گرگئی ہیں، ایف بی آر تو ہمارے لیے طالبان بن گیا ہے۔
اس پر سینیٹر طلحہ محمود نےکہا کہ ایف بی آر طالبان نہیں منگول لشکر ہے، اس سال ٹیکس ٹارگٹ بھی بہت زیادہ ہے اور ریٹ بھی بہت اونچا ہوگیا ہے۔
سینیٹر طلحہ محمود کے سوال پر حکام وزارت تجارت نے بتایا کہ بہتر ٹیرف کے باوجود امریکا کو برآمدات نہ بڑھنےکی بڑی وجہ پاکستان میں زیادہ پیداواری لاگت ہے، چین و بھارت پر زیادہ ٹیرف سے مواقع تو ملے، مگر طویل المدتی سرمایہ کاری نہ ہونے اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث فائدہ نہ اٹھایا جا سکا، جولائی تا دسمبر امریکا کو ٹیکسٹائل برآمدات میں صرف 4 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ اس کا زیادہ فائدہ ویتنام، بنگلا دیش اور کمبوڈیا نے لیا۔
حکام نے بتایا کہ پاکستان جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کو تقریباً 7 ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل برآمد کرتا ہے جب کہ بھارت بغیر رعایت کے بھی اتنی ہی برآمدات کر رہا ہے، بھارت میں پالیسی ریٹ 5.5 فیصد جب کہ پاکستان میں 10.5 فیصد ہے۔


























Leave a Reply