وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل انکوائری کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ دیا۔
اس سے قبل کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ عدالتی تحقیقات کے لیے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں، خط میں درخواست کی جائے گی سانحہ کی تحقیقات حاضر سروس جج سے کرائی جائے، کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے،گل پلازہ کے شہدا کو امدادی چیکس کی ادائیگیاں شروع کر دی گئی ہیں، عدالتی کمیشن کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں کیا گیا، ہم کسی سیاسی جماعت کو نہیں عوام کو جوابدہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چند سیاسی جماعتیں سانحہ پر سیاست کر رہی ہیں، ہم ایسے واقعات پر سیاست نہیں کر رہے، چندجماعتیں کر رہی ہیں،سندھ حکومت کسی پریشر میں نہیں جو کام ہمیں کرنا ہے وہ کر رہے ہیں، ہمیں جب لگا ہم نے جوڈیشل انکوائری کے لیے لکھ دیا۔
سینئر وزیر سندھ کا کہنا تھا کہ گل پلازہ واقعہ کے بعد سندھ کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی،کمیٹی کو کمشنر کراچی کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی کی رپورٹ پرفیصلہ کرنا تھا،کمشنر کراچی کی بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ آگئی ہے، یہ بہت تفصیلی رپورٹ ہے اس میں تمام لوگوں کے انٹرویو موجود ہیں۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت عمارت میں 2500 سے 2 ہزار لوگ تھے، گل پلازہ کا دو مرتبہ سیفٹی آڈٹ ہوچکا تھا مگر عملدرآمد نہیں ہوا، محکمہ سول ڈیفنس نےگل پلازہ کے 2023 سےکئی دورے کیے اور دو نوٹس دیےگئے، سانحے میں 80 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، آگ بجھانے کے عمل کے دوران پانی کی کمی کا سامنا رہا، شہید فائر فائٹر کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے جان کا نذرانہ دیا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کو ایک چھت کے نیچے لایا جا رہا ہے، گل پلازہ میں فائر فائٹنگ سسٹم اور دیگر اقدامات نہیں تھے، جب انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا تو ان کی بھی ذمہ داری تھی، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور ریسکیو کے اداروں کو ایک کمانڈ میں دینےکے لیے بھی فیصلہ کیا جا رہا ہے،کمیٹی نے بلڈنگ کےاجازت نامہ اور لیز میں سنگین غلطیوں کا انکشاف کیا ہے، ان بے ضابطگیوں پر محکمہ اینٹی کرپشن کو کارروائی کا کہا گیا ہے، عمارت کی تعمیر بلڈنگ پلان کے خلاف پائی گئی ہے، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے دیےگئے اجازت ناموں کا جائزہ لیا جائےگا، محکمہ اینٹی کرپشن کو کہا گیا ہےکہ اس سلسلے میں کوتاہیوں کی تحقیقات کرے، واقعے میں کسی بھی اعلیٰ حکام کی غفلت سامنے آئی تو کارروائی ہوگی۔


























Leave a Reply