ایک چینی کمپنی کا کلاؤڈ ماڈل دنیا کا پہلا جنرل آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل بن گیا ہے جو زمین کے مدار میں کام کر رہا ہے۔
چینی کمپنی علی بابا کا کیون 3 ماڈل یہ اعزاز اپنے نام کرنے میں کامیاب ہوا۔
اس ماڈل کو نومبر 2025 میں سیٹلائیٹس کے ذریعے زمین کے مدار میں نصب کیا گیا۔
ان سیٹلائیٹس مئی 2025 میں زمین کے مدار میں اسٹار کمپیوٹ پراجیکٹ کے تحت بھیجا گیا تھا جس کا مقصد خلا میں اے آئی انٹرفیس اور ٹریننگ کو معاونت فراہم کرنا تھا۔
اس اے آئی ماڈل سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات یا رزلٹس فراہم کرنے کا عمل 2 منٹ کے اندر مکمل ہوتا ہے۔
چینی ایرو اسپیس کمپنی ایڈ اسپیس ٹیکنالوجی نے یہ سیٹلائیٹس زمین کے مدار میں بھیجے تھے اور ان کا مقصد دنیا کے پہلے اے آئی کمپیوٹنگ سیٹلائیٹس کہکشاں کو ترتیب دینا ہے۔
اس منصوبے کے تحت 2400 انٹرفیس سیٹلائیٹس اور 400 ٹریننگ یونٹس کو 2035 تک زمین کے مدار میں بھیجا جائے گا۔
متعدد کمپنیوں کی جانب سے اے آئی ہب خلا میں نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے مگر یہ اب تک منصوبوں کی حد تک محدود ہے۔
جنوری 2026 میں ایلون مسک نے اعلان کیا تھا کہ ٹیسلا کی جانب سے ڈوجو 3 پر کام شروع کیا جا رہا ہے جو کہ خلائی کمپیوٹنگ سے متعلق ہے۔
اسی طرح دیگر کمپنیاں بھی خلا میں ڈیٹا سینٹرز کو پہنچانے کا منصوبہ بنا رہی ہیں تاکہ توانائی کے مسائل سے بچا جاسکے۔
مگر ایلون مسک کو دیگر تمام کمپنیوں پر سبقت حاصل ہے کیونکہ اسپیس ایکس کے تحت لاتعداد سیٹلائیٹس پہلے ہی خلا میں بھیجے جاچکے ہیں۔


























Leave a Reply