برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں غیر امریکی نیٹو فوجی محاذ جنگ سے پیچھے رہے تھے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز، اور سچ کہوں تو، انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں ’شدید دکھ اور تکلیف‘ کا احساس پیدا ہوا۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر اسٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا‘۔
خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تھا کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور‘۔


























Leave a Reply