اگر آپ دوپہر کو کچھ دیر سونا پسند کرتے ہیں تو یہ عادت دماغ کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل نیورو امیج میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ دوپہر کو مختصر وقت تک قیلولہ کرنے سے دماغ کی سیکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ قیلولہ کرنے سے اعصابی خلیات کے درمیان تعلق دوبارہ ترتیب پاتا ہے تاکہ دماغ نئی تفصیلات کو مؤثر انداز سے محفوظ کرسکے۔
اب تک یہ مانا جاتا تھا کہ یہ فائدہ رات کی مکمل نیند سے ہی ہوتا ہے۔
مگر اس نئی تحقیق میں ثابت کیا گیا کہ دوپہر کی مختصر نیند سے بھی دماغ کو سکون ملتا ہے اور سیکھنے کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہو جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مختصر نیند سے بھی نئی تفصیلات کو محفوظ کرنے کی دماغی گنجائش بڑھتی ہے۔
ہمارا دماغ دن میں مسلسل متحرک رہتا ہے، نئی چیزیں، خیالات اور تفصیلات کا تجزیہ کرتا ہے، اعصابی خلیات کے تعلق کو مضبوط بناتا ہے تاکہ سیکھنے کا عمل مستحکم رہے۔
مگر یہ عمل مسلسل برقرار رہنے سے دماغ کی سیکھنے کی صلاحیت وقت کے ساتھ گھٹ جاتی ہے۔
اس وقت نیند اس سرگرمی کو بحال کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے اور کسی قسم کی اہم تفصیلات دماغ سے مٹتی نہیں۔
محققین کے مطابق قیلولے سے دماغ ری سیٹ ہوتا ہے اور نئی یادوں کے لیے جگہ بناتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس تحقیق سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ مختصر نیند دماغی بحالی کے لیے اہم ہوتی ہے، اس سے آپ زیادہ واضح طور پر سوچ سکتے ہیں اور خلیات کا تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے وضاحت ہوتی ہے کہ آخر کچھ افراد دوپہر کو قیلولہ کرنے کے بعد زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیسے کرتے ہیں۔
البتہ انہوں نے زور دیا کہ اگر آپ رات کو 7 گھنٹے تک نہیں سوتے تو نیند کی اس کمی سے ہونے والے نقصان کی تلافی مختصر قیلولہ سے ممکن نہیں۔


























Leave a Reply