کیا آپ اکثر نزلہ زکام کے شکار ہو جاتے ہیں جبکہ گھر کے دیگر افراد کو اس کا سامنا نہیں ہوتا؟
اگر ہاں تو طبی ماہرین اس کی وجہ جاننے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ آخر کیوں کچھ افراد کو نزلہ زکام کا سامنا بار بار ہوتا ہے جبکہ دیگر اس سے محفوظ رہتے ہیں۔
جرنل سیل پریس بلیو میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ نزلہ زکام کا باعث بننے والی عام ترین وجہ رینو وائرس نتھنوں کے راستوں سے داخل ہوتا ہے۔
جب وائرس داخل ہوتا ہے تو ناک میں بیماری کے خلاف لڑنے والے خلیات فوری طور پر متحرک ہو جاتے ہیں اور اینٹی وائرل دفاعی نظام کو حرکت میں لاتے ہیں تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔
تحقیق کے مطابق یہ اینٹی وائرل دفاعی نظام کسی فرد کے نزلہ زکام سے بار بار بیمار ہونے یا علامات کی سنگین شدت کی روک تھام کرتا ہے۔
درحقیقت تحقیق میں بتایا گیا کہ رینو وائرس کے خلاف ہمارے جسم کا ردعمل اکثر وائرس سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ عام نزلہ زکام کی متعدد وجوہات ہوتی ہیں مگر رینو وائرس سب سے عام وجہ ہے۔
تحقیق میں لیبارٹری میں انسانی نتھنوں کے ماڈل کو تیار کیا گیا اور اس میں ناک کے اسٹیم سیلز کی نشوونما 4 ہفتوں تک کی گئی۔
اس کے بعد اس میں رینو وائرس کو داخل کرکے خلیات کے ردعمل کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسا ہونے پر متعدد اقسام کے خلیات کی جانب سے اینٹی وائرل ردعمل کو متحرک کیا جاتا ہے۔
جب یہ ردعمل وائرس کو شناخت کرتا ہے تو نہ صرف وائرس بلکہ قریبی صحت مند خلیات کو بھی ہدف بنا لیتا ہے، تاکہ وائرس پھیل نہ سکے۔
مگر جب یہ دفاعی نظام متحرک نہیں ہوتا تو آپ بار بار بیمار ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ نزلہ زکام کا سامنا کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق جب وائرس کو مزاحمت کا سامنا نہیں ہوتا تو وہ متاثر اور صحت مند خلیات میں اپنی نقول بنانے لگتا ہے اور سانس کی نالی کے ورم اور سانس لینے میں مشکلات جیسے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے۔


























Leave a Reply