آبادی کے لحاظ سے کراچی کو کم ازکم 200 فائر اسٹیشنز اور 28 ہزار سے زائد فائر فائٹرز کی ضرورت ہے مگر فائر اسٹیشن محض 28 اور فائٹر 700 کے لگ بھگ ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی میں آگ بجھانے کے نظام پر پھر کئی سوالیہ نشان لگے ہیں۔
جیو نیوز نے بین الاقوامی معیار سے موازنہ کیا تو پتا چلا کہ کراچی میں فائر بریگیڈ کا نظام دس فیصد سے بھی کم پر چل رہا ہے۔ دنیا کے ہر میٹروپولیٹن شہر میں فائر فائٹنگ کا نظام سرفہرست شعبوں میں آتا ہے لیکن کراچی کی بدقسمتی یہ ہےکہ یہاں دیگر شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی مسلسل نظرانداز ہوتا آرہا ہے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ماڈل فائر اسٹیشن، 4 گاڑیاں اور 144 افراد کا عملہ ہونا ضروری ہے۔ اس حساب سے 2 کروڑ کی آبادی کے شہر کو 200 فائر اسٹیشن، 800 گاڑیاں اور 28 ہزار 800 کا عملہ درکار ہے۔
جب اتنے بڑے شہر میں کُل 28 فائر اسٹیشن ہوں تو قدرتی طور پر آگ لگنے کے مقام سے ان کا فاصلہ اتنا زیادہ بڑھ جاتا ہےکہ کوشش کے باوجود متعلقہ عملہ بروقت نہیں پہنچ پاتا جس کے باعث آگ بے قابو ہونے اور جانی و مالی نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
دوسری جانب کراچی فائر بریگیڈ کی 30 سے زائد گاڑیاں سالوں سے خراب ہیں اوران کی مرمت اب تک نہیں ہوپائی ہے۔
محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی
وفاقی حکومت نے 2021 میں 50 فائر ٹینڈرز اور دو باؤزرز کے ایم سی کو فراہم کیے تھے جو شہر کے فائر اسٹیشنز کے علاوہ صنعتی ایریاز کو بھی دو دو کے حساب سے فراہم کیے گئے۔ تاہم عملے کی کمی یہاں بھی آڑے آرہی ہے۔ حالت یہ ہے کہ آج بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں ڈرائیورز سمیت 440 اسامیاں خالی ہیں۔
میئرکراچی مرتضیٰ وہاب کو چارج سنبھالے دو سال ہوگئے اور انہوں نے فائر فائٹرز کی نئی بھرتیوں کے لیے سندھ حکومت سے اجازت طلب تو کرلی ہے لیکن شہر کی بہتری کے لیے اُن سے جن انقلابی فیصلوں اور ٹھوس اقدامات کی توقع کی جارہی تھی وہ تاحال پوری نہیں ہوئی۔
سب سے زیادہ ریونیو وصول کرنے والی وفاقی حکومت بھی کراچی کی بہتری کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہی۔


























Leave a Reply