انسانی دماغ زبان سے ادا کیے جانے والے الفاظ کو ایسے طریقہ کار سے سمجھتا ہے جو کہ ایڈوانسڈ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈلز سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع تحقیق میں ایک کہانی سننے والے افراد کی دماغی سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دماغی ردعمل اے آئی سسٹمز سے ملتا جلتا ہوتا ہے، خاص طور پر ان دماغی حصوں میں جو زبان سے جڑے ہوتے ہیں۔
تحقیق میں اelectrocorticography ریکارڈنگ کو استعمال کیا گیا جو ایسے افراد کی تھی جن کو 30 منٹ کا پوڈ کاسٹ سننے کی ہدایت کی گئی تھی۔
محققین نے افراد کی دماغی سرگرمیوں کے مقام اور وقت کو زبان کا تجزیہ کرتے ہوئے ٹریک کیا۔
انہوں نے دریافت کیا کہ دماغی ایسے طریقہ کار پر عمل کرتا ہے جو کہ لارج لینگوئج ماڈلز جیسے جی پی ٹی 2 اور لاما 2 سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب ہم کسی فرد کی بات سنتے ہیں تو دماغ فوراً اس کا مطلب اخذ نہیں کرتا بلکہ ہر لفظ متعدد دماغی مراحل سے گزرتا ہے۔
ان مراحل میں یہ تجزیہ ایسے انداز سے ہوتا ہے جیسے اے آئی ماڈلز کسی زبان کا تجزیہ کرتے ہوئے کرتے ہیں۔
اے آئی ماڈلز ابتدا میں بنیادی الفظ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جبکہ اس کے بعد تناظر، آہنگ اور دیگر مفہوم پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔
انسانی دماغی سرگرمیاں بھی اسی طرح کام کرتی ہیں۔
محققین کے مطابق جس چیز نے ہمیں سب سے زیادہ حیران کیا وہ یہ ہے کہ دماغ کے کام کرنے کا انداز اے آئی ماڈلز سے کتنا زیادہ ملتا جلتا ہے، حالانکہ ان ماڈلز کو بالکل مختلف انداز سے ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملا کہ اے آئی ٹیکنالوجی تحریر تیار کرنے سے ہٹ کر بھی کافی کچھ کرسکتی ہے۔

























Leave a Reply