ٹرمپ انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے غزہ امن بورڈ چارٹر کا مسودہ 60 ممالک کو بھیج دیا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق طویل مدت کی رکنیت کے خواہاں ممالک پر 1 ارب ڈالر دینے کی شرط عائدکی گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق چارٹر میں کہا گیا ہےکہ ہر رکن ملک چارٹر نافذ ہونےکی تاریخ سے لے کر 3 سال کی مدت تک خدمات انجام دےگا۔
غزہ امن بورڈ کے چیئرمین کی منظوری سے رکنیت کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے، تین سالہ رکنیت کی شرط ان ممالک پر نہیں ہوگی جو پہلے سال میں بورڈ کے لیے 1 ارب ڈالر سے زائد نقد رقم دیں گے۔
خیال رہےکہ امریکی صدرٹرمپ نے غزہ کے انتظامی اور تعمیر نو کے معاملات کے لیے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کو بھی شمولیت کی دعوت دی ہے۔
دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو غزہ سے متعلق بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت ملی ہے، پاکستان غزہ میں امن و سلامتی کے لیے عالمی کوششوں میں بھرپور کردار ادا کرتا رہےگا ، غزہ میں پائیدار امن کے لیے پاکستان بین الاقوامی برادری کے ساتھ رابطے میں رہےگا۔
ٹرمپ نے گذشتہ روز اپنی سربراہی میں غزہ بورڈ آف پیس کا اعلان کیا تھا جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، مشرق وسطیٰ میں ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیراڈ کوشنر، سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور دیگر افراد کو شامل کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کی تشکیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بورڈ اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے رابطہ نہیں کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار غزہ بورڈ کا معاملہ امریکی وزیرخارجہ مارکو رُوبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔


























Leave a Reply