لندن: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر آئندہ ہفتے بیجنگ کا دورہ کریں گے، دورے میں برطانیہ اور چین کے درمیان ’سنہری دور‘ کے تجارتی مذاکرات کی بحالی کا امکان ہے۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ’سنہری دور‘ کے تجارتی مذاکرات کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اس کے لیے اگلے ہفتے چین جا رہے ہیں۔
ان مذاکرات میں دونوں ملکوں کی کمپنیوں کے سینئر عہدے داروں کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ملک سی ای او کونسل بنانے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔ اس کونسل کا تصور 2018 میں اس وقت کی برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے اور چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ نے پیش کیا تھا، یہ وہ وقت تھا جب دونوں ممالک اپنے باہمی تعلقات کو ‘سنہری دور’ قرار دیتے تھے۔
خبر ایجنسی کے مطابق چین یورپ میں اپنا سب سے بڑا سفارت خانہ لندن میں تعمیر کرنےکا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے برطانیہ نے بھی منظوری دے دی ہے۔
کیئر اسٹارمر کا یہ دورہ 2018 کے بعد کسی بھی برطانوی سربراہ کا پہلا دورہ چین ہوگا۔ اسٹارمر انتظامیہ کا مقصد دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ تعلقات کو ازسر نو استوار کرنا ہے۔
دوسری جانب برطانوی خبر ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہےکہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کے سبب برطانوی وزیراعظم کا چین کا دورہ ملتوی بھی ہوسکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے سامنے نہیں جھکوں گا، برطانوی وزیراعظم
ادھر برطانوی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے سامنے نہیں جھکوں گا۔
کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ چاہے امریکی صدر بھاری ٹیرف ہی کیوں نہ نافذ کر دیں، برطانیہ گرین لینڈ کے معاملے پر سر تسلیم خم نہیں کرےگا اور اصولوں اور اقدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف گرین لینڈ کے عوام اور ڈنمارک کا حق ہے۔

























Leave a Reply