ٹک ٹاک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکا میں اپنے بزنس آپریشنز کی فروخت کے حوالے سے معاہدہ طے کرلیا ہے۔
یہ معاہدہ ٹک ٹاک کی سرپرست کمپنی بائیٹ ڈانس نے طے کیا جس کے تحت ایک نئی کمپنی تشکیل دی جائے گی جس میں امریکی کمپنیوں کو زیادہ حصص حاصل ہوں گے۔
اس کمپنی میں مختلف سرمایہ کار جیسے اوریکل، سلور لیک اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایم جی ایکس کو 80.1 حصص حاصل ہوں گے جبکہ باقی 19.9 فیصد بائیٹ ڈانس کے پاس ہوں گے۔
اس اعلان کے بعد امریکا میں ٹک ٹاک پر پابندی کا خطرہ ختم ہوگیا ہے۔
5 سال قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی صدارتی مدت کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد ٹک ٹاک کا امریکا میں مستقبل میں غیریقینی صورتحال کا شکار اس وقت ہوا جب 2024 میں ایوان نمائندگان کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی امریکی شاخ پر پابندی لگانے کے قانون کی منظوری دی۔
اس قانون کے تحت اگر کمپنی کے امریکی آپریشنز کو کسی امریکی کمپنی کو فروخت نہ کیا گیا تو اس پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔
امریکی سپریم کورٹ نے اس قانون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری صدارتی مدت کے پہلے دن ٹک ٹاک پر پابندی کو ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 3 ماہ کے لیے روک دیا تھا۔
اس کے بعد وہ کئی بار اس پابندی کو روک چکے ہیں، جس دوران بائیٹ ڈانس اور امریکی کمپنیوں کے درمیان معاہدے کو طے کرنے کے لیے مذاکرات ہوتے رہے۔
ستمبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں امریکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک منصوبے کا ذکر کیا گیا تھا تاکہ وہ ٹک ٹاک کو خرید سکیں۔
کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کے گلوبل ہیڈ آف آپریشنز اینڈ ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ایڈم پریسر اس نئی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر کام کریں گے۔
نئی کمپنی کے بورڈ میں ٹک ٹاک کے چیف ایگزیکٹو Shou Chew بھی شامل ہوں گے۔
بیان میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کی امریکی کمپنی ایسے اصولوں کے تحت کام کرے گی جس میں امریکی قومی سلامتی کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
ٹک ٹاک میں مواد تجویز کرنے والا الگورتھم برقرار رہے گا مگر اسے امریکی صارفین کے ڈیٹا کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ چینی اور امریکی حکومتوں نے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، البتہ اس حوالے سے چینی حکومت کا کوئی بیان اب تک سامنے نہیں آیا۔
البتہ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے پر چینی ہم منصب کا شکریہ ادا کیا۔


























Leave a Reply