امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کامقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے، ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے
یاد رہے کہ امریکی صدر اس سے قبل بھی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے معاملے پر سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو فوجی طاقت کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ روز غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں بھی امریکی صدر نے دھمکی دی تھی اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اب وقت آگیا ہےکہ ایران ہمارے ساتھ امن کے راستے پر چلے۔


























Leave a Reply