امریکی خلائی ادارے ناسا نے پہلی بار خلا بازوں کو اپنے ذاتی اسمارٹ فونز خلا میں لے جانے کی اجازت دی ہے۔
پالیسی میں تبدیلی کا آغاز کریو 12 اور آرٹیمس 2 مشنز سے ہوگا۔
کریو 12 مشن فروری 2026 کے وسط میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں بھیجا جائے گا جبکہ آرٹیمس 2 مشن مارچ میں چاند کے مدار کی جانب روانہ ہوگا۔
ناسا کی نئی پالیسی سے خلا بازوں کو خلائی مشنز کے دوران جدید آئی فون اور اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز خلا میں لے جانے کا موقع ملے گا۔
اس سے قبل ناسا کی جانب سے خلا بازوں کو صرف ادارے کے فراہم کردہ کیمرے استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔
ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے بتایا کہ اس فیصلے سے خلا بازوں کو زمین سے باہر اپنے تجربات فلمانے کا موقع ملے گا اور وہ تصاویر یا ویڈیوز عوام کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔
انہوں نے ایک ایکس (ٹوئٹر) پوسٹ میں کہا کہ ‘ہم خلا بازوں کو اپنے خاندانوں کے لیے خصوصی لمحات کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے ٹولز فراہم کر رہے ہیں جبکہ وہ دنیا کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرسکیں گے’۔
ناسا کے مطابق اس فیصلے سے مستقبل میں زمین کے مدار اور چاند کی سطح پر سائنسی تجربات کو بھی معاونت ملے گی۔
جیراڈ آئزک مین کے مطابق یہ فیصلہ بہت اہم ہے اور ہم طویل عرصے سے موجود روایات کو چیلنج کر رہے ہیں جبکہ جدید ہارڈ وئیر کو خلائی پروازوں میں لے جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔
ابھی ناسا کے مشنز سے خلا میں جانے والے افراد ڈی ایس ایل آر کیمرے اور گو پرو کیمرے ہی لے جاسکتے ہیں جن میں سے بیشتر برسوں پرانے ہوتے ہیں۔
ان کیمروں کا رزلٹ بھی اچھا ہوتا ہے مگر ان کی تصاویر یا ویڈیوز کو فوری طور پر شیئر نہیں کیا جاسکتا جبکہ اسمارٹ فونز جیسے فیچرز بھی دستیاب نہیں ہوتے۔


























Leave a Reply