امریکا میں جنسی جرائم کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آیا ہے جس پر انہیں اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے شدید تنقیدکا سامنا ہے۔
کانگریس کے ایکس اکاؤنٹ پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) سے بنی ایک طنزیہ ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے جس میں جیفری ایپسٹین اور مودی کو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ ایپسٹین فائلز کی دستاویزات کے مطابق بات کرتے دکھایا گیا ہے۔
اے آئی سے بنی ویڈیو میں مودی جنسی جرائم کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے مشورہ کررہے ہیں اور اس کے مشورے کے مطابق اسرائیل میں رقص بھی کر رہے ہیں تاکہ امریکی صدر ٹرمپ کو خوش کیا جاسکے۔
کانگریس کی جانب سے ویڈیو کےکیپشن میں لکھا گیا ہےکہ نریندر مودی ‘کمپرومائزڈ’ ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین کے خلاف تحقیقات سے جڑے 30 لاکھ صفحات جاری کیے تھے، تازہ دستاویزات میں 2 ہزار ویڈیوز اور ایک لاکھ 80 ہزار سے زیادہ تصاویر شامل ہیں، بعض مواد چھپایا گیا ہے اور بعض صفحات بالکل سیاہ ہیں۔
ایپسٹن فائلز میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آیا ہے جس سے ان کی سیاسی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے قرار دیاہےکہ بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے ساتھ مودی کا تعلق بھارت کے لیے انتہائی شرمناک ہے۔
کانگریس کے مطابق ایپسٹین نے ای میل میں واضح لکھا کہ مودی نے اس سے مشورہ لیا اور اسرائیل گئے، مودی نے اسرائیل میں امریکی صدر کے فائدےکے لیے ناچ گانا بھی کیا۔
کانگریس کا کہنا ہےکہ وزیراعظم مودی نے 4 سے 6 جولائی 2017 تک اسرائیل کا دورہ کیا تھا، ایسپٹین کی ای میل مودی کے دورہ اسرائیل کے 3 روز بعد لکھی گئی، اسرائیل کے دورے سے پہلے جون 2017 میں مودی نے امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، واضح ہو گیا کہ مودی کا جیفری ایپسٹین کے ساتھ گہرا اور پرانا تعلق ہے۔
مودی بتائیں کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟
کانگریس کا کہنا ہےکہ یہ قومی وقار، بین الاقوامی ساکھ کا معاملہ ہے جس پر مودی کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ مودی بتائیں کہ وہ جیفری ایپسٹین سے کس قسم کا مشورہ لے رہے تھے؟ مودی اسرائیل میں کیوں ناچے گائے؟ اس سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟ایپسٹین نے مودی کے دورے کو کامیاب لکھا اس کا کیا مطلب ہے؟ قوم جاننا چاہتی ہے جیفری ایپسٹین کے ساتھ آپ کا کیا رشتہ ہے؟
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے ایپسٹین فائلز میں نریندر مودی اور ان کے اسرائیل کے دورےکا ذکر کرنے والے ای میل پیغام کو مسترد کر دیا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں کہا ہےکہ وزیر اعظم مودی کا جولائی 2017 میں اسرائیل کا سرکاری دورہ حقیقت ہے، لیکن ای میل میں باقی تمام مبہم حوالے ایک سزا یافتہ مجرم کے فضول خیالات ہیں۔


























Leave a Reply