بیشتر افراد نمک کو اپنے کھانے کی پلیٹ میں تو دیکھتے ہیں مگر پانی کے گلاس میں نہیں۔
مگر ایک تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ پینے کے پانی میں موجود سوڈیم یا نمک ہائی بلڈ پریشر کا شکار بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پانی میں موجود نمک خاموشی سے کروڑوں افراد کے بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔
تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں زیادہ مقدار میں نمک اور ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کے درمیان تعلق موجود ہے، خاص طور پر ایسے افراد جو ساحلی خطوں میں مقیم ہوتے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ ہمارا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں، بلکہ ایک ماحولیاتی عنصر کی شناخت کرنا ہے جو متعدد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کے عارضے کا باث بن رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکا میں بیشتر افراد ضرورت سے زیادہ مقدار میں نمک کو جزوبدن بناتے ہیں اور پانی میں موجود اضافی سوڈیم سے اس مقدار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق میں امریکا، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور دیگر متعدد یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔
محققین نے دریافت کیا کہ جو افراد زیادہ نمک والے پانی کو پیتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اس طرح کے نمکین یا کھارے پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
یہ تعلق ساحلی خطوں میں رہنے والے افراد میں زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔
محققین کے مطابق بظاہر تو یہ خطرہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا مگر بلڈ پریشر میں معمولی اضافہ بھی صحت پر منفی اثرات کرتا ہے۔
دنیا بھر میں 3 ارب سے زائد افراد ساحلی خطوں یا ایسے خطوں کے قریب رہتے ہیں اور ایسے اکثر خطوں میں زیرزمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہوتا ہے جس میں اکثر نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل بی ایم جے گلوبل ہیلتھ میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply