لاہور میں بسنت کے انعقاد کی تیاریوں کے باعث پشاور میں تیار ہونے والی پتنگوں اور گڈیوں کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
پشاور کے قدیم یکہ توت بازار میں پتنگوں کی درجنوں دکانیں قائم ہیں جہاں پنجاب سے تعلق رکھنے والے کاریگر دن رات گڈیاں اور پتنگیں تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کاریگر اپنی مہارت اور تجربے کی بدولت معیاری ، خوبصورت اور سستے داموں پتنگیں تیار کر رہے ہیں جو بڑی تعداد میں لاہور اور دیگر شہروں کو بھجوائی جا رہی ہیں۔
یکہ توت بازار کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پشاور کے مختلف علاقوں میں قائم پتنگ سازی کی ورکشاپس میں کام تیزی سے جاری ہے جہاں کاریگر مسلسل محنت کر کے بڑی تعداد میں پتنگیں اور گڈیاں تیار کر رہے ہیں۔
پشاور کی بنی ہوئی پتنگیں مضبوطی، ہلکے وزن اور دیدہ زیب ڈیزائن کے باعث بسنت کے شوقین افراد میں خاصی مقبول ہیں۔
لاہور میں بسنت کے شوقین افراد پشاور میں مقیم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ لاہور کے رہائشی جاوید اللہ نے پشاور میں اپنے دوست جنید خان کو فون کال کے ذریعے بتایا کہ لاہور میں پتنگیں اور گڈیاں نایاب ہو چکی ہیں اور بسنت میں محض دو سے تین دن باقی رہ گئے ہیں۔
پشاور میں تیار کردہ پتنگیں اور گڈیاں نہایت نازک ہوتی ہیں جنہیں بحفاظت لاہور پہنچانا ایک مشکل مرحلہ ہے تاہم اس کے باوجود مختلف ذرائع سے بڑی تعداد میں ترسیل کا عمل جاری ہیں۔
پشاور کے شہریوں نے بھی شہر میں پتنگ بازی کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایس او پیز کے تحت بسنت منانے کی اجازت دی جائے تو نہ صرف قدیم ثقافت کو فروغ ملے گا بلکہ یہاں کے کاریگروں کی روزگار میں بھی اضافہ ہوگا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت ہے جسے مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ منایا جا سکتا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔


























Leave a Reply