یونان میں لکڑی کے بنے ایسے اوزار ملے ہیں جن کو دنیا کے قدیم ترین لکڑی کے ٹولز قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین آثار قدیمہ کے تخمینے کے مطابق یہ اوزار بہت زیادہ قدیم ہیں اور 4 لاکھ 30 ہزار سال پرانے ہوسکتے ہیں۔
ان میں سے ایک لگ بھگ 80 سیٹی میٹر لمبی پتلی چھڑی ہے جو کہ ممکنہ طور پر کیچڑ کو کھودنے کے لیے استعمال ہوتی ہوگی۔
دوسرا ایک چھوٹا مگر زیادہ پراسرار اوزار ہے جو ماہرین کے خیال میں پتھروں کے ٹولز کو تیز کرنے میں مدد کرتا ہوگا۔
اس حوالے سے ایک تحقیق کے نتائج جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔
سائنسدانوں کے خیال میں لاکھوں سال قبل انسان پتھروں، ہڈیوں اور لکڑیوں سے بنے اوزار استعمال کرتے تھے مگر لکڑیوں کے ٹولز کے شواہد تلاش کرنا بہت زیادہ مشکل ہے کیونکہ لکڑی بہت تیزی سے خراب ہو جاتی ہے۔
اس طرح کے ٹولز مخصوص ماحول جیسے برف، غاروں یا زیرآب ہی محفوظ رہ سکتے ہیں۔
یہ 2 اوزار یونان کے Megalopolis طاس میں ملے جو کہ ممکنہ طور پر تلچھٹ میں دفن ہو گئے اور وقت گزرنے کے ساتھ نم ماحول میں محفوظ ہوگئے۔
ماضی میں اس مقام پر محققین نے متعدد دیگر آثار جیسے پتھروں کے ٹولز اور ہاتھیوں کی ہڈیوں کو دریافت کیا جن پر کٹنے کے نشانات موجود تھے۔
ابھی بھی سائنسدانوں نے لکڑی کے ان ٹولز کی درست تاریخ کا تعین نہیں کیا مگر یہ مقام 4 لاکھ 30 ہزار سال پرانا ہے جس سے ان کی ممکنہ عمر کا عندیہ ملتا ہے۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ ہم ہمیشہ اس طرح کی اشیا کو چھونے پر پرجوش ہو جاتے ہیں۔
اس مقام پر اب تک انسانی باقیات دریافت نہیں ہوسکے تو یہ ابھی واضح نہیں کہ ان ٹولز کو کون استعمال کرتا تھا۔
یعنی وہ Neanderthals بھی ہوسکتے ہیں یا ابتدائی انسانی آباؤ اجداد۔
محققین کے خیال میں یونان کے اس مقام پر ماضی کے متعدد نوادرات موجود ہوسکتے ہیں جن کو دریافت کیا جانا باقی ہے۔


























Leave a Reply