قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو ارکان قومی اسمبلی کے اثاثوں یا گوشواروں کی اشاعت سے روکنے کا بل منظور کرلیا۔
قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل شازیہ مری نے پیش کیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے کہا کہ بل میں چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر اسمبلی کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی رکن گوشواروں شائع نہ کرانا چاہے تو وہ شائع نہ ہو،گوشوارے الیکشن کمیشن میں جمع کرائے جائیں گے لیکن شائع نہیں ہوں گے۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے تحت آپ الیکشن لا کے معاملات کو سپریم کورٹ کے بجائے آئینی کورٹ میں لیکر جا رہے ہیں، اس میں آئین کی تشریح کی ضرورت نہیں، الیکشن کمیشن اگر کہے کہ بیس پولنگ اسٹیشن پر ووٹ دوبارہ ہوں تو آپ اس معاملے کو آئینی کورٹ میں لیکر جا رہے ہیں۔
اس پر وزیر قانون نے کہا کہ بہت سی الیکشن کمیشن کی چیزیں تھی جو آئینی کورٹ گئی ہیں، سیاسی جماعت کو کالعدم کرنا آئینی معاملہ تھا اب وہ آئینی عدالت میں جائے گا، فلور کراسنگ کا معاملہ بھی آئینی کورٹ جائے گا ، ایسا نہیں ہو سکتا کہ الیکشن کمیشن کی 80 فیصد اپیل سپریم کورٹ اور 20 فیصد آئینی کورٹ جائیں۔
بل میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے متاثرہ شخص 30 دن کے اندر آئینی کورٹ میں اپیل دائر کر سکے گا، کوئی رکن چیئرمین سینیٹ یا اسپیکر اسمبلی کو درخواست دے سکے گا کہ الیکشن کمیشن اس کے اثاثوں یا گوشواروں کی تفصیلات شائع نہ کرے اور رکن تحریری طور پر درخواست اسپیکر یا چیئرمین کے چیمبر میں جمع کرائے گا۔
درخواست میں کہا جائے گا کہ اثاثوں کی تفصیلات شائع نہ کی جائیں کیونکہ اس سے اس کی یا اس کے خاندان کی زندگی کو سنگین خطرہ لاحق ہے، اثاثے کی تفصیلات ایک سال کے تک شائع نہیں کی جائے گی تاہم یہ مشروط ہوگا کہ رکن کی جانب سے اثاثوں کی درست تفصیلات جمع کرائی گئی ہیں، اثاثوں کی تفصیلات خفیہ طور پر الیکشن کمیشن کو جمع کرائی جائے گی۔
بل کے مطابق الیکشن ٹریبونل کے فیصلے سے متاثرہ شخص 30 دن میں آئینی کورٹ میں اپیل کر سکے گا، اگر کسی سیاسی جماعت کی جماعت کو کا اندراج نہیں کیا جاتا یا اس کا اندراج منسوخ کر دیا جاتا ہے تو وہ آئینی کورٹ سے رجوع کرے گا، سیاسی جماعت کے غیر ملکی فنڈنگ موصول ہونے یا دہشت گردی میں ملوث ہونے پر تحلیل کرنے کا ڈکلیئریشن کو حکومت 15 دن کے اندر آئینی کورٹ میں دائر کرے گی، اگر آئینی کورٹ حکومت کے ڈکلیئریشن کو برقرار رکھے تو پارٹی تحلیل ہو جائے گی اور رکن کو نااہل کرنے کا معاملہ آئینی کورٹ جائے گا۔

























Leave a Reply