کراچی (29 اکتوبر 2026): سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری (ڈی ٹی ایل) نے عام استعمال ہونے والی 6 ادویات کے 7 بیچز کو جعلی قرار دے دیا، ٹیسٹ میں انکشاف ہوا کہ نمونوں میں ان کے بتائے گئے فعال اجزاء موجود نہیں تھے۔
یہ ادویات اینٹی بائیوٹکس، پیٹ درد اور معدے کی شکایات، درد کش اور قبض کش ادویات پر مشتمل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ کمپنیوں نے ان بیچز سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی تیار کردہ نہیں ہیں۔
ڈی ٹی ایل کے ڈائریکٹر عدنان رضوی نے بتایا کہ لیبارٹری نے ویلوسیف 500 ملی گرام کیپسول، آگمنٹن 625 ملی گرام گولیاں، نو اسپا فورٹ 80 ملی گرام گولیاں، میوکین سسپنشن، بریکسن گولیوں اور لیکسوبیرون مائع کے مخصوص بیچز کو ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت جعلی قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیبارٹری تجزیے سے ثابت ہوا کہ ٹیسٹ کیے گئے نمونوں میں ان کے علاجی اثر کیلیے ضروری فعال اجزاء موجود نہیں تھے۔
لیبارٹری کے نتائج کے مطابق یہ بیچز ہیں:
- ویلوسیف 500 ملی گرام کیپسول (بیچ LX3E)
- آگمنٹن 625 ملی گرام گولیاں (YT9D)
- نو اسپا فورٹ 80 ملی گرام گولیاں (AN010)
- میوکین سسپنشن (257A088)
- بریکسن گولیاں (W6BC)
- لیکسوبیرون مائع (46292 اور 43445)
ویلوسیف اور آگمنٹن اینٹی بائیوٹکس ہیں جو عام طور پر بیکٹیریل انفیکشن کیلیے تجویز کی جاتی ہیں۔ نو اسپا فورٹ پیٹ کے درد اور اینٹھن کیلیے، میوکین تیزابیت اور معدے کی دیگر شکایات کیلیے، اور بریکسن درد اور سوزش، خاص طور پر جوڑوں کے امراض میں استعمال ہوتی ہے۔
لیکسوبیرون کے معاملے میں ٹیسٹ سے سوڈیم پیکو سلفیٹ کی عدم موجودگی کی تصدیق ہوئی، جو اس کے جلاب آور اثر کا فعال جزو ہے۔
عدنان رضوی نے بتایا کہ لیکسوبیرون کی تیار کنندہ کمپنی مارٹن ڈاؤ مارکر نے حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ جن بیچ نمبروں والی مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ کمپنی نے تیار نہیں کیں، دیگر پانچ برانڈز سے وابستہ کمپنیوں نے بھی بتایا ہے کہ جن بیچز پر سوال اٹھایا گیا ہے وہ ان کی اصلی مصنوعات نہیں ہیں۔
کمپنیوں کے جوابات اور لیبارٹری کے نتائج نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ معروف فارماسیوٹیکل برانڈز کے نام والی جعلی مصنوعات ادویات کی سپلائی چین میں داخل ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینسر کا علاج : دو ادویات سے موت کا آدھا خطرہ ٹل گیا
عدنان رضوی کے مطابق لیبارٹری رپورٹس سیکریٹری سندھ کوالٹی کنٹرول بورڈ اور صوبائی ڈرگ انسپکٹر کراچی ساؤتھ کو ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت قانونی کارروائی کیلیے بھجوائی گئی ہیں۔ لیکسوبیرون کے دو بیچز کی رپورٹس بھی قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی کیلیے صوبائی کوالٹی کنٹرول حکام کو بھجوائی گئی ہیں۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا کہ فعال اجزاء کے بغیر ادویات مریضوں کیلیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتی ہیں، کیونکہ وہ وہ علاج فراہم نہیں کرتیں جس کیلیے وہ تجویز کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتائج خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس کے معاملے میں سنگین ہو سکتے ہیں، جہاں بیکٹیریل انفیکشن میں مبتلا مریضوں کی بیماری بگڑ سکتی ہے یا مؤثر علاج میں تاخیر ہو سکتی ہے اگر وہ نادانستہ طور پر ایسی مصنوعات استعمال کریں۔
درد، پیٹ کے امراض یا قبض کیلیے جعلی ادویات لینے والے مریض بھی تجویز کردہ علاج پر عمل کے باوجود اپنی علامات سے نجات نہ پا سکیں۔تاہم، حکام نے اس بات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ شناخت شدہ بیچز کی کتنی مقدار مارکیٹ میں پہنچ چکی ہے، وہ کن علاقوں میں تقسیم ہوئے، یا کیا کسی مریض کو ان کے استعمال کے بعد نقصان پہنچا۔حکام نے واضح کیا کہ لیبارٹری کے نتائج صرف شناخت شدہ بیچز سے متعلق ہیں اور ان کا اطلاق اسی برانڈ کے دیگر بیچز پر نہیں ہوتا جو جائز کمپنیوں نے تیار کیے ہیں۔
