ڈبلیو ڈبلیو ای کے ایونٹس میں اگر رائل رمبل کو سب سے دلچسپ قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
30 مرد اور خواتین ریسلرز کے الگ الگ ہونے والے رائل رمبل میچز میں ان افراد کو بھی دلچسپی ہوتی ہے جو اس کھیل کو کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے۔
اس سال سعودی عرب کے شہر ریاض میں ہونے والے رائل رمبل مقابلے بھی کافی دلچسپ ثابت ہوئے۔
واضح رہے کہ رائل رمبل مقابلے جیتنے والے ریسلرز ڈبلیو ڈبلیو ای کے سب سے بڑے سالانہ ایونٹ ریسل مینیا میں کسی ٹائٹل میچ کا حصہ بنتے ہیں۔
مگر اس سال کی سب سے خاص بات رائل رمبل مقابلے نہیں بلکہ ایک مقبول ترین ریسلر کا کیرئیر کا اختتام ہے۔
اے جے اسٹائلز کا ڈبلیو ڈبلیو ای کیرئیر رائل رمبل ایونٹ کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا کیونکہ انہیں ریسلر گنٹیر کے خلاف مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا۔
گنٹیر نے اس مقابلے کے لیے شرط عائد کی تھی کہ اگر اے جے اسٹائلز کو شکست کا سامنا ہوا تو ان کا کیرئیر ختم ہو جائے گا۔
دوسری جانب اس سال مردوں کا رائل رمبل مقابلہ ایسے ریسلر کے نام رہا جو پاکستان میں بھی بہت مقبول ہے۔
اس سال یہ مقابلہ رومن رینز کے نام رہا اور انہوں نے میچ کے اختتامی لمحات میں گنٹیر کو رنگ سے باہر پھینک کر کامیابی حاصل کی۔
یہ رومن رینز کے کیرئیر میں دوسری بار ہے جب وہ رائل رمبل مقابلہ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔
خواتین کے رائل رمبل مقابلے میں لیو مورگن نے دیگر 29 ریسلرز کو شکست دے کر کامیابی اپنے نام کی۔
ایک اور میچ میں ڈریو میکنٹائر نے سمیع زین کو شکست دے کر ڈبلیو ڈبلیو ای چیمپئن شپ کے اعزاز کا کامیاب دفاع کیا۔


























Leave a Reply