ہاتھ یا پیر میں پھانس چبھنے کا مسئلہ بہت عام ہوتا ہے اور تکلیف دہ بھی ہوتا ہے۔
عام طور پر پھانس نکالنے کے لیے چمٹی کا سہارا لیا جاتا ہے مگر زیادہ تر ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔
جیسا لکھا جاچکا ہے کہ پھانس بہت تکلیف دہ ہوتی ہے اور اسے نکالنا زیادہ درد کا باعث بنتا ہے۔
تاہم اگر اسے چھوڑ دیا جائے تو آپ خود کو زیادہ خطرناک انفیکشن کے خطرے کا شکار بنا رہے ہوتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر پھانس زیادہ گہرائی میں چلی جائے تو پھر چمٹی سے اسے نکالنا لگ بھگ ناممکن ہوتا ہے جبکہ تکلیف الگ ہوتی ہے۔
عام طور پر اس طرح کی پھانس میں بیکٹریا اور دیگر جرثومے موجود ہوتے ہیں جبکہ شیشے، پلاسٹک یا دھات کے کسی ذرے کے پھنسنے سے یہ خطرہ کم ہوتا ہے۔
لکڑی میں عام طور پر قدرتی تیل بھی ہوتا ہے جسے جسمانی دفاعی نظام ایک خطرے کی شکل میں دیکھتا ہے اور جہاں وہ پھانس موجود ہوتی ہے، اس کے ارگرد کی جِلد سوج جاتی ہے۔
اس طرح کی پھانس سے سب سے زیادہ Staphylococcus نامی انفیکشن ہوتا ہے جس کی علامات بخار، سردی لگنے یا جلد پھولنے کی شکل میں نظر آتی ہیں۔
اسی طرح ایک اور خطرناک بیکٹریا Clostridium tetani ٹیٹنس کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں جبڑے جکڑے ہوئے محسوس ہونے لگتے ہیں، مسلز اکڑ جاتے ہیں اور بخار ہوجاتا ہے۔
تو اہم بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جب بھی پھانس جسم میں موجود ہو تو اسے نکالنے کی کوشش کریں۔
اس مقصد کے لیے صاف چمٹی کا استعمال کریں اور پھانس نکل جانے پر زخم کو جراثیم کش محلول سے ضرور صاف کریں گے۔
اور ہاں بینڈیج لگانا بھی مت بھولیں تاکہ انفیکشن سے بچا جاسکے اور ایسا کرنے پر جسمانی دفاعی نظام آپ کا شکر گزار ہوگا۔
گھریلو ٹوٹکا
اگر چمٹی کام نہ آئے تو پھر اس کے متبادل کے طور پر کچن کا رخ کریں اور لہسن کی مدد لیں۔
جی ہاں لہسن کی پوتھی کو پھانس نکالنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، چاہے وہ پھانس لکڑی کی ہو، شیشے کا ذرہ یا کچھ اور۔
اگر پھانس بہت چھوٹی ہو یا گہرائی میں چلی گئی ہو تو متاثرہ حصے کو دھوئیں اور پھر لہسن کی پوتھی سے چھلکے اتار کر اسے دو ٹکڑے میں کاٹ لیں، اس کے بعد ایک حصے کا کٹا ہوا رخ متاثرہ جگہ پر رکھ دیں۔
اس کے بعد ٹیپ سے لہسن کے ٹکڑے کو وہاں سیل کردیں اور پھر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔
لہسن میں موجود قدرتی جراثیم کش اور ورم کش خصوصیات سوجن اور درد کو کم کرتی ہیں جبکہ پھانس کو جِلد سے باہر نکالنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
اسی طرح کیلے کے چھلکے بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، متاثرہ حصے کو چھلکے سے ڈھانپ دیں، جس میں موجود اجزااس پھانس کو نکالنے میں مدد دیں گے۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔


























Leave a Reply