جماہی ایک ایسا عمل ہے جسے دیکھنے یا محض یہ لفظ دیکھنے سے ہی متعدد افراد منہ پھاڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اب تک یہ واضح نہیں کہ اس سے جسم کے اندر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مگر آسٹریلیا کی نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جماہی سے دماغ کو تحفظ فراہم کرنے والے سیال کے بہاؤ پر غیرمعمولی اور غیر متوقع اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تحقیق کے نتائج سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ آخر انسانوں (اور دیگر متعدد جاندار) کیوں جماہی لیتے ہیں۔
اس تحقیق میں 22 صحت مند افراد کو شامل کرکے ان کے سروں اور گردنوں کے ایم آر آئی اسکین اس وقت کیے گئے جب وہ جماہی لے رہے تھے، گہری سانسیں لے رہے تھے، جماہی روکنے کی کوشش کر رہے تھے یا معمول کے مطابق سانس لے رہے تھے۔
جماہی لینے اور گہری سانسوں کے عمل کے میکنزمز ملتے جلتے ہوتے ہیں تو محققین کو توقع تھی کہ انہیں اسکینز میں ملتے جلتے نتائج دیکھنے کو ملیں گے۔
مگر وہ یہ دیکھ کر نگ رہ گئے کہ گہری سانسوں کے برعکس جماہی ہمارے دماغ سے تحفظ فراہم کرنے والے سیال کو دور لے جاتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ گہری سانس لینے کے مقابلے میں جماہی لینے سے یہ سیال مخالف سمت میں حرکت کرنے لگتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی توقع بھی نہیں کی تھی کہ ہمیں کچھ ایسا دیکھنے کو ملے گا۔
مگر زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ ایسا ہر فرد کے ساتھ نہیں ہوتا اور خواتین کے مقابلے میں مردوں میں کم ہوتا ہے۔
تحقیق میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ گہری سانس اور جماہی سے دماغ کی خارج ہونے والے خون کا بہاؤ بڑھتا ہے، جس سے تازہ خون کے لیے گنجائش میں اضافہ ہوتا ہے۔
تحقیق میں بتایا کہ جماہی لینے سے دماغ میں خون کا بہاؤ ایک تہائی تک بڑھ جاتا ہے جس سے اس رویے کی ممکنہ وجوہات کے حوالے سے شواہد سامنے آتے ہیں۔
محققین کے مطابق ہر فرد کا جماہی لینے کا اپنا انداز ہوتا ہے اور وہ ہر بار اسی کو اختیار کرتے ہیں۔
البتہ محققین نے اعتراف کیا کہ یہ واضح نہیں کہ جماہی کے باعث دماغ سے حفاظتی سیال کا اخراج کیوں ہوتا ہے اور اس سے کیا اثرت مرتب ہوتے ہیں۔
یہ حفاظتی سیال مرکزی اعصابی نظام کے افعال ہموار رکھتا ہے، غذائی اجزا کی فراہمی اور کچرے کی صفائی کرتا ہے۔
محققین کے خیال میں جماہی دماغی صفائی میں کردار ادا کرتی ہے مگر اس حوالے سے وہ پریقین نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ ہم جان سکیں کہ دماغ اور اعصابی نظام کے حوالے سے جماہی کا کردار کیا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج پری پرنٹ سرور biorxiv میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply