امریکا کی متعدد ریاستوں کو کئی برسوں کے سب سے شدید برفانی طوفان کا سامنا ہے جس کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور 7 افراد ہلاک ہوگئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن، نیویارک، ٹیکساس، اوکلاہوما، نیوجرسی سمیت درجنوں ریاستوں میں شدید برفباری، بارش اور سرد ہواؤں کا راج ہے۔
نیویارک کے دیہی علاقے میں درجہ حرارت منفی 49 تک گر گیا ہے۔
شدید برفباری کے باعث امریکا بھر میں 16 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہوگئیں جبکہ 8 لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق شدید برفباری کے باعث امریکا کی 24 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ خون جماتی سردی سے 40 ریاستوں کے 24 کروڑ سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن اورگردونواح میں 6 سے 10 انچ برف کی پیشگوئی ہے جس کی وجہ سے پیر کو وفاقی دفاتر بند رکھنے اور نیویارک سٹی کے اسکولوں میں آن لائن کلاسز کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے پریس بریفنگ میں کہا کہ نیویارک کو کئی برسوں کے بعد موسم سرما کے شدید ترین طوفان کا سامنا ہے۔ نیویارک بھر میں ہڈیوں کو جما دینے والی اور خطرناک سردی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نیویارک کے واٹر ٹاؤن شہر میں منفی 34، کوپن ہیگن گاؤں میں منفی 49 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ ہو چکا ہے، نیویارک کے مختلف حصوں میں 8 سے 18 انچ تک برف پڑنے کا امکان ہے۔
نیویارک کی گورنر نے عوام کو ہدایت کی کہ وہ غیرضروری طور پر گھروں سے نہ نکلیں۔
محمکہ موسمیات کا کہنا ہے کہ امریکا میں برفانی طوفان کا اثر اگلے ہفتے تک برقرار رہے گا۔


























Leave a Reply