کیا آپ کو اکثر کام کے دوران توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے؟ اگر ہاں تو اس کی وجہ آپ کی ایک عام غذائی عادت ہوسکتی ہیں۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
برازیل کی Sao Paulo یونیورسٹی اور آسٹریلیا کی موناش اور ڈیکن یونیورسٹیوں کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال توجہ مرکوز رکھنے اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے مرض ڈیمینشیا سے جڑے عناصر کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے اور اب نئی تحقیق میں ان کا ایک اور نقصان سامنے آیا ہے۔
اس تحقیق میں 21 سو سے زائد درمیانی عمر کے افراد کو شامل کیا گیا تھا، جن کے غذائی اور دماغی صحت کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔
یہ سب افراد تحقیق کے آغاز میں ڈیمینشیا سے محفوظ تھے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال میں معمولی اضافے سے ہی توجہ اور دماغ کی تجزیہ کرنے کی صلاحیت میں نمایاں تنزلی آتی ہے۔
تحقیق کے مطابق الٹرا پراسیس غذاؤں کی مقدار میں 10 فیصد اضافہ ہی یہ نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتا ہے یا آسان الفاظ میں آپ روزمرہ کی مصروفیات میں ایک اضافی چپس کا پیکٹ کھا کر اپنی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل افراد روزمرہ کی بنیاد پر دن بھر کی 41 فیصد کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں کے ذریعے جسم کا حصہ بناتے تھے۔
محققین نے بتایا کہ ہم نے یہ بھی دریافت کیا کہ کسی فرد کی مجموعی غذا چاہے جیسی بھی ہو، مگر کچھ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال دماغ کو متاثر کرنے کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں میں ایسے اجزا کا استعمال ہوتا ہے جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بہت زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کیا جائے تو اس سے ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والے عناصر جیسے ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے وغیرہ کا سامنا ہوتا ہے، جس سے طویل المعیاد بنیادوں پر دماغی صحت متاثر ہوتی ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل الزائمر اینڈ ڈیمینشیا میں شائع ہوئے۔























Leave a Reply