[ad_1]
امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری حالیہ تنازع، جس نے عالمی توانائی اور سپلائی چین کے بحران کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
اسی تناظر میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ حکومتِ پنجاب نے کفایت شعاری کی مہم کے تحت رمضان المبارک میں مفت کھانا فراہم کرنے والا”نگہبان دسترخوان“ پروگرام بند کر دیا ہے۔
دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ
11 مارچ کو فیس بک صارف نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ حکومتِ پنجاب نے”نگہبان دسترخوان“ اور سرکاری افطار پوائنٹس کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
پوسٹ میں کہا گیا کہ حکام کے مطابق، یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحران کے معاشی اثرات کے پیشِ نظر عوامی اخراجات میں کمی لانے اور کفایت شعاری کی مہم کے ایک حصے کے طور پر لیا گیا ہے۔
اس دعوے کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ایک تصویر بھی لگائی گئی تھی جس پر یہ عبارت لکھی تھی: ’حکومتِ پنجاب نے مفت رمضان افطار پروگرام بند کر دیا ہے‘۔
حقیقت
حکام کی تصدیق اور جیو فیکٹ چیک کی آزادانہ تحقیقات کے مطابق، نگہبان دسترخوان پروگرام بند نہیں کیا گیا ہے اور رمضان المبارک کے دوران مفت افطار کی فراہمی بدستور جاری ہے۔
وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے سیاسی امور، ذیشان ملک نے کہا ہے کہ گردش کرنے والا یہ دعویٰ غلط ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے 18 مارچ کو نگہبان رمضان دسترخوان’ اقدام کے تحت لاہور کی لبرٹی مارکیٹ میں قائم ایک مفت افطار پوائنٹ کا دورہ کیا اور معلوم ہوا کہ وہاں کھانا فراہم کیا جا رہا تھا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں تمام مقامات (افطار پوائنٹس) بدستور فعال ہیں۔
کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور نے کہا ہے کہ ڈویژن میں کوئی بھی سائٹ (افطار پوائنٹ) بند نہیں کی گئی اور انہوں نے 17 اور 18 مارچ کی جیو ٹیگڈ (geo tagged) اور تاریخ کے ساتھ مستند تصاویر بھی شیئر کیں، جو تمام تحصیلوں میں پروگرام کے فعال ہونے کا ثبوت ہیں۔
ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ نوید احمد، ڈپٹی کمشنر سرگودھا حسین احمد رضا چوہدری، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ڈاکٹر حسن وقار چیمہ اور ڈپٹی کمشنر گجرات نورالعین قریشی نے بھی تصدیق کی ہے کہ یہ پروگرام (نگہبان دسترخوان) بدستور جاری ہے اور انہوں نے ثبوت کے طور پرتصاویر بھی شیئر کیں۔
پنجاب حکومت کے پروگرام کے تحت مفت کھانا فراہم کرنے والی این جی اوز (NGOs) میں سے ایک، سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ نے بھی آن لائن دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پروگرام مکمل طور پر فعال ہے اور جاری ہے۔
ٹرسٹ کے سٹی مینیجر عرفان رضا نے جیو فیکٹ چیک کو فون پر بتایا کہ ٹرسٹ اس وقت لاہور میں پانچ نگہبان دسترخوان چلا رہا ہے اور صوبے کے دیگر حصوں میں بھی پنجاب حکومت کے ‘نگہبان دسترخوان کے تحت افطار کے انتظامات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان علاقوں میں کھانے پینے اور سروس کرنے کے تمام انتظامات مکمل طور پر سیلانی ٹرسٹ کے زیرِ انتظام ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ حکومت لاجسٹک سپورٹ بشمول کھانے کی ترتیب اور برتن وغیرہ فراہم کرتی ہے لیکن کھانے پینے اور پانی کے تمام انتظامات مکمل طور پر ٹرسٹ کی جانب سے مہیا اور سنبھالے جاتے ہیں۔
فیصلہ: یہ دعویٰ کہ حکومتِ پنجاب نے نگہبان دسترخوان یا مفت افطار پوائنٹس بند کر دیے ہیں، غلط ہے، مختلف اضلاع کے حکام اور فیلڈ رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ پروگرام بدستور فعال اور جاری ہے۔
اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply