[ad_1]
روس میں ایرانی سفیر نے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی روسی اسپتال میں زیر علاج ہونےکی تردید کردی۔
روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کے روس میں سفیرکاظم جلالی نے اس خبرکی تردید کی ہےکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای علاج کے لیے ماسکو میں موجود ہیں۔
ایکس پر جاری بیان میں روس میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ جھوٹ بولنےکی عادت جھوٹے کے ذہن سے کبھی نہیں جاتی، ایک ایرانی کہاوت ہےکہ جھوٹے کی یادداشت کمزور ہوتی ہے اور وہ جلد بھول جاتا ہے۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ پہلے مغربی میڈیا پروپیگنڈا کرتا رہا کہ شہید خامنہ ای وینزویلا اور روس چلےگئے ہیں اور اب خبر پھیلائی جارہی ہےکہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو علاج کے لیے روس منتقل کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک نئی نفسیاتی جنگ ہے، ایران کے رہنماؤں کو نہ بھاگنے کی ضرورت ہے اور نہ پناہ گاہوں میں چھپنے کی، ان کی جگہ عوام کے درمیان سڑکوں پر ہے۔
ایرانی سفیرکا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کی برداشت، نظام کا عزم اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی اعلیٰ صلاحیت نہ صرف ایران کے لیے بلکہ پورے مغربی ایشیا کے لیے اس جنگ کے انجام کا تعین کرےگی، کیونکہ ایران اپنی آزادی، خودمختاری اور خطے کی سلامتی کا دفاع امریکا کی جارحیت اور دباؤ کے خلاف کر رہا ہے، اس جنگ کے بعد مغربی ایشیا کے سکیورٹی نظام کو عوام کی حقیقی خواہشات کے مطابق بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے بغیر دوبارہ ترتیب دیا جائےگا۔
خیال رہےکہ کویتی اخبار الجریدہ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی اپنے والد پر ہونے والے قاتلانہ حملے زخمی ہوئے تھے جس کے بعد انہیں علاج کے لیے ماسکو منتقل کیا گیا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی ذاتی دعوت پر ماسکو لے جایا گیا ہے۔
واضح رہےکہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا بیان سرکاری ٹی وی پر ایک نیوز اینکر نے پڑھ کر سنایا تھا۔
دوسری جانب سینئر ایرانی عہدیدار نےکہا ہےکہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنےکی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے۔
سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق سپریم لیڈر نے خارجہ پالیسی سیشن میں ان تجاویزکو مسترد کیا جو دو ثالثی ممالک نے بھیجی تھیں۔ پہلےخارجہ پالیسی اجلاس میں مجتبیٰ خامنہ ای نےکہا تھا کہ یہ وقت امن کا نہیں، امریکا اور اسرائیل کو شکست دینا ہوگی اور امریکا کو ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply