پشاور ہائی کورٹ نے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کو فوری طور پر سڑکیں کھلونے کا حکم دے دیا۔
سڑکوں کی بندش سے متعلق سماعت میں جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ چوتھا روز ہے ، سڑکیں بند ہیں ، صوبے کے عوام کو شدید مشکلات ہیں، لوگ جان سے جا رہے ہیں ، رولنگ پارٹی اپنے ہی صوبے کے لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے، آج ہی سڑکیں کھولیں۔
جسٹس اعجاز انور کا کہنا تھا کہ پشاور سے کوئی باہر نہیں جاسکتا، کل ان کے بچے نکلے اور واپس آگئے کہ سڑکیں بند ہیں، صوبے میں دہشت گردی ہے، لوگوں پر رحم کریں۔
عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے کہا کہ ایم پی ایز اسلام آباد سپریم کورٹ کا حکم منوانے گئے ہیں، کسی غلط چیز کو ڈیفنڈ نہیں کر رہے ہیں۔
اس پر جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ آپ بطور ایڈووکیٹ جنرل احتجاج کی حمایت کرتے ٹھیک نہیں لگتے، پارٹی کو چھوڑیں، پشاور کے شہری بنیں۔
آئی جی اور چیف سکریٹری نے کہا کہ انہیں 2 دن دیں، وہ رپورٹ جمع کراتے ہیں جس پر جسٹس اعجاز انور کہا 2 دن نہیں، آج سے سڑکیں کھولیں، یقینی بنائیں کہ کسی صورت موٹر وے بند نہیں کرنے دیں گے ۔
جسٹس اعجاز انور نے حکم دیا کہ آج کے بعد کوئی بھی سڑک بالخصوص پشاور میں بند نہیں ہونی چاہیے، آئی جی پولیس کی عدالت کو آج ہی سڑکیں کھلوانے کی یقین دہانی پر سماعت ملتوی کردی گئی ۔


























Leave a Reply