دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔
دل کی صحت سے جڑے مسائل بشمول ہارٹ اٹیک، دل کی دھڑکن کی رفتار میں بے ترتیبی یا اس عضو کے مختلف حصوں کو پہنچنے والے ہر قسم کے نقصان کے لیے امراض قلب کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ امراض قلب کا سامنا بڑھاپے یا کم از کم درمیانی عمر میں ہوتا ہے۔
مگر حالیہ برسوں میں جوان افراد میں دل کے امراض کی شرح میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں اس کی ایک اہم وجہ دریافت کی گئی ہے اور وہ ہے الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
امریکا کی فلوریڈا اٹلانٹک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 4787 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور دیکھا گیا تھا کہ وہ روزانہ کتنی مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں۔
ان افراد کی صحت کا جائزہ 2021 سے 2023 تک لیا گیا اور ان سے غذائی تفصیلات سے متعلق سوالنامے بھروائے گئے اور تخمینہ لگایا گیا کہ وہ روزانہ کتنی کیلوریز الٹرا پراسیس غذاؤں سے جزوبدن بناتے ہیں۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کے استعمال سے ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت امراض قلب سے متاثر ہونے کا خطرہ 47 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے حوالے سے تمباکو نوشی کی روک تھام جیسے اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جوان افراد میں آنتوں کے کینسر کے کیسز کی شرح بڑھنے کی ایک بڑی ممکنہ وجہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیقی کام یا کلینیکل ٹرائلز کی ضرورت ہے، مگر الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کم کرنا صحت کے لیے مفید ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج دی امریکن جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply