کراچی کے ریڈ زون میں ایوان صدر روڈ پر گورنر ہاؤس سے متصل باغ جناح پارک کی قیمتی اور آہنی گرل کاٹنے کر چوری کرنے کی وارداتیں یومیہ بنیادوں پر جاری ہیں جہاں چور اب آہستہ آہستہ گورنر ہاؤس کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
باغ جناح پارک کی از سرنو تعمیر سال 2013 میں اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہوئی تھی، اس وقت کے گورنر عشرت العباد خان نے 8 اکتوبر 2013 کو اس کا افتتاح کیا تھا، کچھ عرصہ بعد تک پارک کی حفاظت کیلئے سکیورٹی گارڈز تعینات رہے، مالی پارک کی خوبصورتی کو برقرار رکھتے رہے لیکن گزشتہ کئی سالوں سے پارک تباہ حالی کا شکار ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔
اب گزشتہ چند ہفتوں سے چوروں نے ایوان صدر روڈ کی طرف سے منوں وزنی گرل کاٹ کر چوری کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، ہر ایک دو دن بعد منوں وزنی آہنی گرل غائب ہو جاتی ہے، جمعرات کی شام تک تقریباً 200 میٹر تک کی گرل کاٹی جاچکی تھی۔
جیو نیوز کے نمائندے نے جب دورہ کیا تو ضیاءالدین احمد روڈ پر باغ جناح کی پارکنگ کیلئے کے ایم سی کا عملہ پیسے وصول کر رہا تھا مگر اس اثاثے کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
ایک اہلکار کے مطابق ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے بھی کیا جاتا ہے مگر دو تین دن بعد پولیس انہیں چھوڑ دیتی ہے اور وہ پھر چوری میں لگ جاتے ہیں۔
نشے کے عادی افراد نے کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ کرکے رکھ دیا ہے، پلوں کی آہنی گرلز، عمارتوں کے سریا، گیس سپلائی کی پائپ لائنیں تک چوری کی جارہی ہیں۔

























Leave a Reply