دو تین سال سے گوادر میں کتب میلہ ہوتا ہے۔ جہاں ہزاروں کتابیں نوجوان خریدتے ہیں۔ سب نوجوان لڑکے لڑکیاں بہت دلچسپی لیتے ہیں اور کانفرنس میں فاطمہ حسن ہرسال بہت مصروف نظر آتی ہیں۔ اس دفعہ کے میلے کا آغاز بہت گرم جوشی سے ہوا۔ پھر ایک دم چاروں طرف سے گولیوں کی آوازیں اور کتابیں بکھرتی نظر آئیں۔
سارے صحافی جو خاص طور پر کراچی سے گفتگو کرنے آئے تھے اور دیگر پروفیسر، ان تابڑتوڑ گولیوں کی آوازوں میں انکی مسکراہٹ اور پروگرام خاکستر ہوتا گیا۔ موبائل کھولے تو پتہ چلا کہ دوسو کے قریب دہشت گرد نیت تو لیکر آئے تھے کہ بلوچستان میں اجاڑا پھیر دیں گے مگر ہر شہر، ہر قصبے میں ان دہشت گردوں کو ہمارے جوانوں نے ایسا گھیرا ڈالا کہ چند گھنٹوں ہی میں ہر طرف ان کے لاشے تھے۔ وہ جو بلوچستان کے 12 اضلاع کو خاک پہنانے آئے تھے۔ وہ بدنیت خون میں نہائے زمیں پوش تھے۔ افغانی اور انڈین مل کر آئے روز ایسے حملے کرکے اس زمین کو خاک وخون میں ملیا میٹ کرکے آخر چاہتے کیا ہیں۔ پاکستان کی اکائی کو توڑنا اور ہماری باہمی محبت کو نفرت کی دہلیز بنانے کی ضد آخر کیوں؟
افغانستان میں حکومت افغانیوں کی نہیں۔ وہ دہشت گرد جو دنیا بھرمیں پھیلے پہاڑوں پہ قلابازیاں لگاتے ، افغان سرزمین پر پہنچ کر نفیس قالینوں کو مسلتے ہوئے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگاتےتھے۔ پھر منشیات کی تجارت کرتے، امریکیوں کو بھی بے وقوف بناکر، عورتوں پہ پابندیوں کو بھی اپنی کامیابی اور گزشتہ تین برسوں سے اپنی فتوحات میں شمار کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے دانشور انہیں سمجھاتے رہے کہ عقل کو ہاتھ مارو ایسا اسلام تو کہیں نہیں ہے اور نہ تھا۔
انکی ڈور دہشت گردوں اور ان عوامل کے ہاتھ میں ہے جو پاکستان کو برباد کرکے، اپنی بھی تہذیب کو خاک میں ملانا چاہتے ہیں۔ افغانستان وہ سر زمین ہے جہاں سے گزر کر ، مغل ،تاتاری اور ہر طرح کے قبائل نے جتنی دولت اور معدنیات سمیٹنے کی ہمت تھی، سمیٹی۔ آخر کو انگریزوں نے پر پھیلائے اور وہ برصغیر کی دولت سمیٹ کر اپنے وطن واپس گئے اور اب ملوکیت کی تہہ داریوں کی آخری شمع کی طرح اس بادشاہ کی حکمرانی کو آخری شمع سمجھ کر اپنے غرور کو زندہ ہتھیلی پر رکھے ’ٹمٹماتی لو‘ کو قائم رکھے ہوئےہیں۔
بھٹو صاحب کے دور میں نئی بلوچ حکومت کو جب ہٹایا گیا تو اسوقت ہمارے نوجوان، جن کا تعلق بلوچ قبیلے سے نہیں تھا، مگر پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ وہ دن اور آج کا دن بلوچ رجمنٹ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ لیکن ہزارہ کمیونٹی کو مارا جاتا ہے۔ کبھی پنجابیوں کو کہ وہ لیبر فورس کی طرح کام کررہے تھے۔ یہ سلسلہ بہت مضبوط ہوا۔ جب خود سردار سامنے آکر لڑائی کا منصوبہ لائے کہ ہمارے علاقے میں پنجابی اہل کاروں کی اکثریتی بھرتی بلوچوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے۔ اس لئے یہ فساد شروع ہوا۔ ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ بھی ایسی لڑائی شروع ہوئی کہ میں نے کوئٹہ میں ہزارہ آبادی کا قبرستان بھی دیکھا اور ہزارہ کمیونٹی نے اپنے علاقے میں تنگ گلیاں بنائیں کہ دشمن حملہ نہ کرسکے۔ بہرحال، ہر دو سال بعد کبھی بی ایل اے اور کبھی بی ایل ایف نے چینی قونصل خانے پہ بھی حملے کئے۔ مگر تازہ ترین حملوں میں جہاں 177حملہ آور مارے گئے وہیں 31 شہری اور 17سیکورٹی اہل کار بھی شہید ہوگئے۔ لوگوں نے بتایا کہ اس وقت بشیر زیب کی سربراہی میں مجید بریگیڈ تنظیم، متعدد مقدمات اور حملوں میں مطلوب ہے۔
اب جبکہ بلوچستان کے ہرشعبے، ہر یونیورسٹی اور دیگر اداروں میں بلوچ لبریشن آرمی کی ضرورت نہیں کہ اعداد وشمار میں بھی اس وقت بلوچ افراد ہی حکومتی بنچوں پر قابض ہیں۔ پشتون اور ہزارہ کی آبادی کو آگے بڑھنے نہیں دے رہےہیں۔ یہ قطعی سچ ہے کہ انڈین اور افغانی مل کر بلوچستان کی ترقی کو معکوس بنارہے ہیں اب جبکہ ساری دنیا کو بلوچستان میں معدنی ذخائر کی نہ صرف آگاہی ہے بلکہ ساری طاقتوں کے منہ میں پانی آرہا ہے کہ یہ معدنیات کسی طرح انکے قبضے میں آجائیں۔
ایرانی تیل کا سرکاری گاڑیوں تک باقاعدہ استعمال ہوتے، میں نے خود خضدار نوشکی اور پنج گور میں دیکھا ہے کہ بدین اور کیچ کے علاقے میں تو اسمگلنگ کے ذریعہ تیل تو کیا نمکو بھی استعمال کی جاتی ہے۔پاکستان کی حکومت ایرانی تیل کو استعمال کرنے کے خلاف ہے۔ اب تو پورے بلوچستان میں ہر زبان کی یونیورسٹی موجود ہے۔ خاص کر بلوچ ادب کے فروغ میں گزشتہ 25 سال سے ڈاکٹر شاہ محمد مری اور بالدینی قبیلے کے لوگ پورے بلوچی ادب کو منصۂ شہود پر لائے ہیں۔ حکومت پاکستان کا الزام ہے کہ بی ایل ایف نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا ایک ذریعہ ہے اور انہیں شدت پسندی کی جانب راغب کیا جاتا ہے۔ جبکہ حکومت کا یہ کہنا ہےکہ یہ تمام تنظیمیں ملک کی یک جہتی میں دراڑ ڈالتی ہیں۔
یہ لوگ ڈی ایس پی ہو یا ایس پی اکثرکو اغوا کرتے ہیں پھر اسکی قیمت لگاتے ہیں۔ مال مل جائے تو ٹھیک ورنہ اغوا شدہ بندے کو جان سے مار ڈالتے ہیں۔ یہ سارے شدّت پسند گروپ، منشیات کا کاروبار پہلے دن سے کرتے آئے ہیں۔ افیون اور چرس کا کاروبار ہمیشہ سے چل رہا ہے۔ پشین میں ثالثوں کی بات نہ بنے تو ہلاک کردیا جاتا ہے۔
ہر سردار نے ویسے اپنا گروپ بنایا ہواہے۔ اپنی مرضی کی سیاست کر نا اور کام نہ ہوسکے تو حکومتی کارندوں کو ماردینا، ایک عام بات ہے۔ بلوچ لبریشن فرنٹ کے علاوہ بلوچ لبریشن تنظیم بھی بندوق کے ذریعے لڑنے پر یقین رکھتی ہے۔ ابھی بلوچستان میں انڈیا اور افغان قوتیں مل کر حکومتی استحکام کو کمزور کرتی رہی ہیں۔ بالاج مری جو سربراہ تھا، وہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا اس کے بعد اسلم بلوچ سامنے آیا کہ اسکا شمار مرکزی کمانڈوز میں ہوتا تھا۔ اسلم بلوچ پر اعتراض کیا جاتا تھا کہ وہ سربراہ کی اجازت کے بغیر انڈیا گیا۔ علاوہ ازیں اسلم بلوچ، افغانستان میں ایک خودکش حملے میں مارا گیا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply