آپ کسی ہوٹل میں مقیم ہیں یا گھر سے باہر کسی نئی جگہ پر سونے کے لیے لیٹتے ہیں، مگر نیند آنکھوں سے دور ہوتی ہے اور کروٹیں بدلتے رہتے ہیں؟
یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا سامنا متعدد افراد کو ہوتا ہے جب وہ کسی نئی جگہ پر رات بھر کے لیے قیام کرتے ہیں اور اب سائنسدانوں نے اس کی وجہ جان لی ہے۔
جاپان کی ناگویا یونیورسٹی کی جانب سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ آخر کسی نئی جگہ پر پہلی رات تو لوگ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں، مگر اگلی رات کو اچھی نیند آتی ہے۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے چوہوں پر تجربات کیے اور ایسے نیورونز کے گروپ کو شناخت کیا جو نئے ماحول میں متحرک ہوتا ہے۔
یہ نیورونز ایک مرکب neurotensin خارج کرتے ہیں جو بیداری کو مستحکم رکھنے کا کام کرتا ہے۔
اس کا مقصد اجنبی جگہوں پر ممکنہ خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔
اس دریافت سے وضاحت ہوتی ہے کہ انسان کسی نئی جگہ پر پہلی رات اکثر جاگ کر کیوں گزارتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق کسی نئی جگہ پر پہلی رات ہمارا دماغ زیادہ چوکنا رہتا ہے جیسے چوکیدار کی طرح کام کر رہا ہو۔
وہ اس وقت ایک آنکھ کھلی رکھتا ہے جب تک تصدیق نہیں کرلیتا کہ یہ ماحول محفوظ ہے۔
محققین نے بتایا کہ یہ تو دہائیوں سے معلوم تھا کہ کسی نئی جگہ پر نیند متاثر ہوتی ہے مگر یہ واضح نہیں تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب ہم نے دریافت کیا کہ ایسا دماغی نیورونز سے خارج ہونے والے ایک مرکب کے باعث ہوتا ہے جو دماغ کے اس حصے پر اثر انداز ہوتا ہے جو حرکت اور چوکنا رکھنے جیسے افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply