امریکی خلائی ادارے ناسا نے چاند پر بھیجے جانے والے تاریخی انسان بردار آرٹیمس 2 مشن کو ملتوی کر دیا ہے۔
اس مشن کے تحت 4 خلا بازوں کو 5 دہائیوں بعد چاند کے مدار پر بھیجا جانا تھا۔
پہلے ناسا نے اعلان کیا تھا کہ آرٹیمس 2 مشن کو 8 فروری کو چاند کی جانب روانہ کیا جائے گا مگر اب اسے مارچ تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ناسا نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ یہ فیصلہ مشن کی ڈریس ریہرسل مکمل کرنے کے بعد کیا گیا جس کا مقصد راکٹ سسٹم کی آزمائش کرنا تھا۔
بیان میں بتایا گیا کہ ریہرسل کے دوران کافی مسائل کا سامنا ہوا، پہلے سرد موسم کے باعث ریہرسل تاخیر سے شروع ہوئی جبکہ راکٹ انجن میں ہائیڈروجن لیکج کے مسائل کا بھی سامنا ہوا۔
بیان کے مطابق مشن کو ملتوی کرنے سے ہمیں ڈیٹا کا تجزیہ کرکے دوسری لانچ ریہرسل کے لیے تیار ہونے کا موقع ملے گا۔
ناسا کے منتظم جیراڈ آئزک مین نے ایک ایکس پوسٹ میں بتایا کہ آخری بار ایس ایل ایس راکٹ کو آرٹیمس ون مشن کے لیے 3 سال قبل لانچ کیا گیا تھا تو ہمیں پہلے سے توقع تھی کہ چیلنجز کا سامنا ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ریہرسل کی اور اس کا مقصد مسائل کو جاننا تھا۔
خیال رہے کہ آخری بار ناسا نے 1972 میں اپوپو پروگرام کے تحت انسان بردار مشن چاند پر بھیجا تھا اور اب 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ایسا دوبارہ کیا جا رہا ہے۔
10 روزہ آرٹیمس 2 مشن میں 4 خلا باز موجود ہوں گے جو اورین اسپیس کرافٹ میں نصب لائف سپورٹ سسٹمز کی جانچ پڑتال کریں گے تاکہ مستقبل میں طویل مشنز ممکن ہوسکیں۔
یہ مشن پہلے 2 بار زمین کے مدار میں پرواز کرے گا اور پھر چاند کے اس حصے کی جانب روانہ ہوگا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔
یہ خلا باز چاند کی سطح پر قدم نہیں رکھیں گے مگر یہ 1972 کے بعد پہلی بار ہوگا جب کوئی انسان زمین کے نچلے مدار سے باہر سفر کرے گا۔
آرٹیمس 2 مشن کا مقصد ناسا کے آرٹیمس 3 مشن کی صلاحیت کو جانچنا ہے۔
2027 میں شیڈول آرٹیمس 3 مشن کے تحت انسان دہائیوں بعد پہلی بار چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔
آرٹیمس 3 مشن کو اسپیس ایکس کے اسٹار شپ راکٹ کے ذریعے چاند پر بھیجا جائے گا۔
اس کے مقابلے میں آرٹیمس 2 مشن کو ناسا کی تاریخ کے طاقتور ترین اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔
اس راکٹ کو آرٹیمس 1 کو چاند پر بھیجنے کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔


























Leave a Reply