لاہور پولیس کی انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی زین کو سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کا ملزم قرار دے دیا گیا۔
یہ انکوائری رپورٹ ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور پر مشتمل انکوائری کمیٹی نےتیار کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس پی اور ایس ایچ او خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو موقع سے تھانہ بھاٹی لےگئے، انہوں نے غلام مرتضیٰ کےساتھ آنے والے دیگر رشتے داروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بجائے فوراً جاں بحق ہونے والی لڑکی کے والدکو فون کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق ملزم پولیس آفیسرز نے غلام مرتضیٰ کے ساتھ آنے والے ایک رشتےدار تنویر کو بھی تھانے میں بٹھالیا، دونوں پولیس آفیسرز غلام مرتضیٰ پر ایس ایچ او کےکمرے میں تشدد کرتے رہے، ایس ایچ او کےکمرے میں نصب کیمرےکی ویڈیو سے بھی شہادت حاصل کرلی گئی، غلام مرتضیٰ کو پونے5 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔
غلام مرتضیٰ نے انکوائری ٹیم کو بیان دیا کہ پولیس آفیسرز بیوی اور بیٹی کو قتل کرنےکا الزام قبول کرنےکے لیے دباؤ ڈالتے رہے، ملزم پولیس آفیسرز نے بیان دیا کہ انہیں ریسکیو اور دیگر اداروں نے کہا تھا کہ یہاں خاتون کا ڈوبنا ممکن نہیں اس لیے شبے میں غلام مرتضیٰ کو تھانے لےگئے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق دونوں پولیس آفیسرز نے واقعےکو غیر پیشہ ورانہ طریقے سے مِس ہینڈل کیا، اس لیے دونوں پولیس آفیسرز کےخلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی جاتی ہے۔
یہ انکوائری رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کر دی گئی ہے جسےآئی جی وزیراعلیٰ کو پیش کریں گے۔


























Leave a Reply