کراچی کے گل پلازہ میں آگ لگنے اور نہ بجھا پانے کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں لیکن ایسے میں محکمہ فائر بریگیڈ کی مشکلات اور وسائل کے فقدان کے حوالے سے کوئی بات چیت سامنے نہیں آرہی جس سے یہ خدشات سامنے آرہے ہیں کہ شہر میں کہیں خدانخواستہ اس نوعیت کی آگ اگر پھر لگ گئی تو موجودہ حالات کے پیش نظر اسے فوری بجھانا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔
فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122 اور اس طرح کے کئی اداروں پر سالانہ اربوں روپے کے اخراجات کیے جارہے ہیں مگر منصوبہ بندی نہ ہونے سے نتائج صفر انے آرہے رہے ہیں۔
اس نمائندے نے دورہ کیا تو پتا چلا کہ فائر ہیڈ کوارٹر میں کسی کچی آبادی کی طرح یومیہ 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہے، صبح ساڑھے 7 بجے سے ساڑھے 8 بجے، صبح 10 بجے سے ساڑھے 12 بجے، دوپہر 2 بجے سے شام ساڑھے 5 بجے، شام ساڑھے 6 بجے سے رات ساڑھے 9 بجے اور رات ساڑھے 10 بجے سے ساڑھے 12 بجے تک بجلی بند ہوتی ہے۔
دن میں امور چلانے کیلئے جنریٹر اور رات میں بلب جلانے کیلئے ایک یو پی ایس کام کرتا ہے، بجلی اگر 24 گھنٹے فراہم کر بھی دی جائے تو فائر بریگیڈ کو اس سے بڑا اور اہم مسئلہ پانی کی مسلسل عدم فراہمی کا ہے۔
ایمرجنسی سروسز کے محکمے کو عام آبادیوں کی طرح رات 11 بجے سے چند گھنٹے تک پانی سپلائی دی جاتی ہے، یہاں 450 ملازمین کی کمی ہے، ہیڈ کوارٹر میں ایک شفٹ میں 20 ملازمین ہیں، ہروقت ایک آپریٹر ڈیوٹی پر ہوتا ہے، اس ایک آپریٹر نے سینٹرل فائر بریگیڈ کی 2 فون لائنز اور ایمرجنسی سروسز کے نمبر 16 کے 2 فونز پر بھی کالیں اٹینڈ کرنا ہوتی ہیں، یہ فون ہر وقت بج رہے ہوتے ہیں، 16 نمبر پر ان گنت اور بلاوجہ کالیں کراچی فائر بریگیڈ کا اہم ترین مسئلہ ہے۔
کسی بڑی چھوٹی آگ کی رپورٹ وصول کرکے اسے کنفرم کرنا اور پھر متعلقہ اسٹیشن کو آگاہ کرنے میں اوسط 5 منٹ لگ جاتے ہیں، کسی بڑی آگ کی صورت میں 5 منٹ کا وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
محکمے میں 8 گھنٹے کی بجائے 12 گھنٹے ڈیوٹی لی جاتی ہے، 4 گھنٹے اوور ٹائم وقت پر نہ ملنے کی شکایات عام ہیں۔
ذرائع کے مطابق فائر بریگیڈ کا کمیونیکیشن سسٹم سال 2011 میں بند ہوگیا تھا جو 15 سال میں اب تک فعال نہیں ہوسکا، آگ کے دوران موبائل فون نیٹ ورک بند ہوجاتا ہے تو ایمرجنسی کے اس محکمے کیلئے انتہائی مشکلات پڑجاتی ہیں، عام شہریوں کی طرح کراچی میں ٹریفک کا مسئلہ فائر بریگیڈ کیلئے بھی بڑا چیلنج ہے، مرکز سے نکل کر آگ بجھانے کے مقام تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جب کہ کسی حادثے کی صورت میں فائر بریگیڈ ملازمین کی لائف انشورنس نہیں، کسی بھی ملازم کو میڈیکل کی سہولت نہیں، علاج پر خود پیسے خرچ کرکے بل کلیم کیا جاتا ہے۔
ایک دو فائر اسٹیشنز کے علاوہ تمام فائر اسٹیشنز پر سہولیات کا فقدان ہے، فائر فائٹرز تیسرے درجے کے شہری کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ایسا نہیں کہ سندھ حکومت یا کے ایم سی کے پاس وسائل نہیں، اس کے مقابلے میں ریسکیو 1122 اور دیگر اداروں پر سالانہ اربوں روپے کے اخراجات کیے جا رہے ہیں۔
فائر بریگیڈ میں ایک کی بجائے کم سے کم دو آپریٹر کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ریسکیو 1122 میں 8 گھنٹے کی شفٹ میں 36 آپریٹرز کام کررہے ہیں، کل 224 فائر فائٹرز ہیں مگر ان کے پاس آگ بجھانے کیلئے مطلوبہ گاڑیاں نہیں۔
ریسکیو 1122 سڑکوں پر کھڑی صرف 3 فائر فائٹرز یا 7 دیگر گاڑیوں کے ذریعے کام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


























Leave a Reply