چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ اور کب مذاکرات کرنا ہیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مجھے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں انفیکشن کی بات میڈیا سے پتہ چلی ہے، اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے، بانی پی ٹی آئی کی فیملی کی ملاقات بہت ضروری ہے، فیملی کی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، مجھے پچھلی دفعہ بھی لوگوں نےکہا شاید آپ کی ملاقات ہوگی، پچھلی دفعہ بھی میں نےکہا اکیلا نہیں ملوں گا، اگر آپ 8 فروری تک ملاقاتیں بند کریں گے تو 9 فروری کو کیا سیاست ختم ہوجائےگی۔
بیرسٹر گوہرکا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر نہ سیاست اور نہ ہی نرم گوشہ ہونا چاہیے، ہماری آپس کی جنگ میں دہشت گرد جیتیں گے، جو ہمیں مار رہے ہیں ہم ان سے مذاکرات کی بات نہیں کرتے،ایک بیانیہ بنالیں صوبائی اسمبلی کو آن بورڈ لے لیں، وفاقی حکومت نے پریس ریلیز جاری کیاکہ ہم نے انخلاء کا آرڈر نہیں کیا،اس ایشو پر پریس ریلیز کی ضرورت نہیں تھی فون کرلیتے، انخلاکا جو بھی ذمہ دار ہے آپس میں مل بیٹھنا چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کے احکامات کے پابند ہیں، بانی پی ٹی آئی نے محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کی جوڑی اب پوری ہوگئی ہے، دونوں اپوزیشن لیڈرز اب فیصلہ کریں گے کس کے ساتھ مذاکرات کرنے ہیں کب کرنے ہیں، غیر ذمہ دارانہ بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں، الفاظ کے معنی ہوتے ہیں اور اس کے نتائج بھی ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کے شعبے میں میرے پاس اعدادوشمار نہیں کہ کے پی حکومت نے کتنے نئے اسپتال بنائے، خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ کا اجرا اچھا اقدام ہے، خواتین کے حقوق اور ان کا تحفظ ضروری ہے، بچیوں کی شادی کی عمر میں مزید اضافہ ہونا چاہیے۔


























Leave a Reply