پاکستانی فلم اور ڈراموں کے نامور اداکار فیصل قریشی کا کہنا ہے کہ کیس نمبر 9 میں میرا کریکٹر منفی ضرور تھا مگر بہت جاندار تھا۔
جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنے ہر کردار میں حقیقت کا رنگ بھرنے والے لاجواب اداکار فیصل قریشی نے کہا کہ میں کسی بھی ڈرامے کو سائن کرتے ہوئے سب سے پہلے اسکرپٹ دیکھتا ہوں، اسکرپٹ اچھا لگے تو ایک ہی رات میں پڑھ لیتا ہوں، ورنہ میں آدھے گھنٹے میں پڑھ کر واپس کردیتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ کیس نمبر 9 میں میرا کریکٹر منفی ضرور تھا مگر بہت جاندار تھا۔ ’وی لو ٹو ہیٹ یو‘، مجھے یہ لائن بہت اچھی لگی، ناظرین نے میرے کریکٹر کو برا بھلا کہا لیکن میری پرفارمنس کی تعریفیں کی، ڈرامے کی کہانی کامران اور سحر کے علاوہ پوری نہیں ہوسکتی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں اداکار فیصل قریشی نے بتایا کہ اس ڈرامے کی کامیابی میں سب سے نمایاں کردار ڈائریکٹر سید وجاہت حسین کا تھا اور سونے پہ سہاگہ شاہ زیب خانزادہ کا مضبوط اسکرپٹ تھا، میں ان کا لکھا ہوا اسکرپٹ منع نہیں کرسکتا تھا۔
صبا قمر کی لاجواب کردار نگاری کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صبا لاجواب اداکارہ ہیں، وہ بہت محنتی ہیں اور اپنے کام کو فوکس کرتی ہیں، ان کے کام کی جتنی بھی تعریف کی جائے، وہ کم ہے، اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں شوبز کی دنیا میں بہت عزت دی ہے، صبا قمر ایک جنونی اور پروفیشنل اداکارہ ہیں، میں نے اپنے شوبز کیرئیر میں ایسی اداکارہ بہت کم دیکھی ہے۔
فیصل قریشی نے بتایا کہ ساتھی فنکاروں میں عدنان صدیقی اور اعجاز اسلم نے میرے کام کی تعریف کی جب کہ ہمایوں سعید نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاہ زیب خانزادہ کے اسکرپٹ نے ہماری پوری ٹیم کو حیرت میں مبتلا کردیا تھا کہ کوئی پہلی بار اتنا شاندار اسکرپٹ کیسے لکھ سکتا ہے۔
فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں مذاق میں کہا ’شاہ زیب بھائی یہ ڈراما آپ نے ہی لکھا ہے ناں‘، یہ سن کر انہوں نے کہا ’فیصل بھائی یہ ڈراما لکھ لکھ کر میری گردن ٹیڑھی ہوگئی ہے۔‘

























Leave a Reply