مظفرآباد: وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق کا کہنا ہے کہ اگر کسی کی نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟ جب تک اختیار ہے اپنے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا۔
صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ جلد پریس کانفرنس کروں گا جس میں تفصیلی بات ہو گی، عدم اعتماد جمہوریت کا حسن ہے، میری قدر جانےکے بعد ہوگی۔
چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ جس گھر میں جنم لیا اپنی خاطر اس کو آگ نہیں لگاسکتا، میرے چہرے پرکوئی ندامت دکھائی نہیں دےگی۔
چوہدری انوار الحق کا مزیدکہنا تھا کہ میں واحد وزیراعظم ہوں جس نے خزانہ بھرا، خالی نہیں کیا۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہےکہ آزادکشمیر میں وزیراعظم تبدیل کرنے کا آخری دور شروع ہونےکا امکان ہے۔ْ
ذرائع کے مطابق آج رات یا کل وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق کے مستعفی ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے، چوہدری انوارالحق اپنے ساتھیوں سمیت اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔
ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مسلم لیگ ن نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں شامل وزرا نے پیپلزپارٹی کے نئے قائد ایوان کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی موجود ہے۔وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں صدر اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے۔
ریاستی آئین کے تحت وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں 14روز کے اندر نئے قائد ایوان کا انتخاب ضروری ہے۔
موجودہ اسمبلی چوتھے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لائے گی۔ وزیراعظم اپنا استعفیٰ صدر آزادکشمیر کو بھجوائیں گے۔
اگر اسمبلی ان سیشن ہوتو فوری طور پر نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ اگر اسمبلی ان سیشن نہ ہو تو صدر 14 ایام میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے اجلاس بلانے کا پابند ہے۔
تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں موجود کل اراکین کی تعداد کے 25 فیصد اراکین کے دستخطوں سے جمع کروائی جاسکتی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنیوالے محرک آئندہ وزیراعظم کا نام بھی پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔ کوئی بھی رکن سیکرٹری اسمبلی کو قرارداد پیش کرنے کا نوٹس دے سکتا ہے۔
سیکرٹری اسمبلی ایک نقل صدر اور ممکنہ اراکین کو نوٹس تقسیم کرے گا۔
اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوجاتی ہے تو اس صورت میں آئندہ 6 ماہ تک دوبارہ تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جاسکے گی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کرسکتا ہے۔ اسمبلی اس وقت تحلیل ہوسکتی ہے اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع نہ کرادی گئی ہو۔
صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرے گا۔اگر صدر اسمبلی تحلیل نہیں کرتا تو اسمبلی اگلے 48 گھنٹوں میں خود بخود تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد 90 روز میں عام انتخابات کروانا لازمی ہوں گے۔


























Leave a Reply