
واشنگٹن: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ماہ ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے فلسطینی اتھارٹی کے نمائندوں کو ویزا نہیں دے گا۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے ارکان کے ویزے منسوخ یا مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے کہ پی ایل او اور پی اے کو ان کے وعدوں پر عمل نہ کرنے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
محکمہ خارجہ نے فلسطینی قیادت پر الزام عائد کیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت اور عالمی عدالتِ انصاف کا سہارا لے کر ’قانونی جنگ‘ (lawfare) کر رہی ہے اور یہ کہ فلسطینی اتھارٹی کو فلسطینی ریاست کو یکطرفہ طور پر تسلیم کرانے کی کوششیں ترک کرنی چاہئیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے ایکس پر اپنے بیان میں امریکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’اس جرات مندانہ اقدام اور ایک بار پھر اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے‘ پر ٹرمپ انتظامیہ کے مشکور ہیں۔
خیال رہے کہ فرانسیسی صدر نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ فرانس جنرل اسمبلی اجلاس سے ایک روز قبل ہونے والے خصوصی اجلاس میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ ویزا پابندی تمام فلسطینی حکام پر لاگو ہوگی یا نہیں۔ امریکی فیصلے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ جنرل اسمبلی سے قبل ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تمام ریاستوں اور مبصرین، بشمول فلسطینیوں، کی شرکت اہم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا۔
Leave a Reply