[ad_1]
تصور کریں کہ اگر ایک لمبی چوپ اسٹک حلق کے اندر پھنس جائے تو چند منٹ کے اندر ہی کیسی بے چینی اور تکلیف محسوس ہوگی۔
مگر چین میں ایک شخص 8 سال سے حلق میں چوپ اسٹک کو پھنسائے زندگی گزارتا رہا کیونکہ اسے آپریشن سے ڈر لگتا تھا۔
جی ہاں واقعی چین کے صوبے لیاؤننگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص وانگ نے 2 سال قبل 12 سینٹی میٹر لمبی چوپ اسٹک کو نگل لیا تھا۔
ایسا حادثاتی طور پر کھانے کے دوران ہوا تھا۔
اس وقت وانگ کو تکلیف تو ہوئی مگر سانس لینے میں مسائل کا سامنا نہیں ہوا۔
بعد ازاں جب اس نے اسپتال میں جاکر معائنہ کرایا تو ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ گلے کو ایک سائیڈ سے کاٹ کر چوپ اسٹک کو نکالا جاسکتا ہے۔
مگر وانگ نے ایسا کرانے سے انکار کردیا اور فیصلہ کیا کہ چوپ اسٹک کو حلق میں ہی رہنے دے۔
وانگ کے مطابق 8 سال کے دوران کئی بار اسے کھانا کھانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا تھا مگر اس نے آپریشن نہ کرانے کا فیصلہ کیا۔
مگر حالیہ چند ماہ کے دوران وانگ کو ہر بار صبح اٹھنے کے بعد تکلیف کا سامنا ہوتا تھا اور کچھ نگلنے پر یہ تکلیف بہت زیادہ بڑھ جاتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ 8 سال بعد اس نے ایک بار پھر اسپتال جانے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق وانگ نے ہمیں بتایا کہ ایک چوپ اسٹک حلق میں پھنسی ہوئی ہے اور ہمارا خیال تھا کہ ایسا حال ہی میں ہوا ہوگا، مگر اس نے بتایا کہ ایسا 8 سال پہلے ہوا تھا۔
معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ ایک دھاتی چوپ اسٹک وانگ کے حلق میں پھنسی ہوئی ہے۔
خوش قسمتی سے اس چوپ اسٹک سے حلق کی جھلی اور متعلقہ اعضا کو نقصان نہیں پہنچا تھا جس کے باعث زیادہ نقصان نہیں ہوا۔
ڈاکٹروں نے سرجری کے ذریعے منہ کے راستے چوپ اسٹک کو نکال لیا کیونکہ وانگ کی جانب سے گلا کاٹنے پر اعتراض کیا گیا تھا۔
آپریشن کامیاب ہوا اور اب وانگ تیزی سے صحتیاب ہو رہا ہے مگر اس کی کہانی انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہے۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply