شمال مغربی چین سے تعلق رکھنے والی ایک 7 سالہ بچی نے لاکھوں افراد کے دلوں کو پگھلا کر رکھ دیا ہے۔
صوبہ Heilongjiang کے ایک اسپتال میں سان مینگرو نامی بچی اس وقت انٹرنیٹ پر وائرل ہوئی جب ایک ویڈیو سامنے آئی۔
اس ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ یہ بچی تنہا اسپتال میں اپنے والد کی دیکھ بھال کر رہی ہے جو وہاں امراض قلب کے باعث زیرعلاج تھے۔
18 جنوری کی یہ ویڈیو ایک شخص پائی نے سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔
بچی کے والد کی عمر 40 سال سے زائد تھی اور بچن نے پائی کو بتایا کہ اس کے والدین کی طلاق ہوچکی ہے اور دادی کی عمر 70 سال سے زائد ہے تو وہ روزانہ اسپتال نہیں آسکتیں۔
بچی کے دیگر رشتے دیگر شہروں میں مقیم ہیں۔
ویڈیو پوسٹ کرنے والے شخص کے مطابق ضرورت کے وقت یہ بچی ڈاکٹروں یا نرسوں کو تلاش کرتی ، والد کے ٹیسٹوں کے نتائج لے کر آتی اور کھانا بھی خریدتی۔
اس شخص نے بتایا کہ ‘میں نے خود اس ننھی بچی کو یہ سب کام کرتے ہوئے دیکھا اور اس کے لیے اداس ہوگیا’۔
جب اس شخص کے والد کو ایک بڑے اسپتال میں منتقل کیا گیا تو جانے سے قبل اس نے کچھ رقم ایک سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے بچی کو بھجوائی جبکہ پھل اور دودھ کے ڈبے بھی دیے۔
اس ویڈیو کو لاکھوں بار دیکھا جاچکا ہے اور انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے اس بچی کو عطیات دیے جا رہے ہیں۔
اسپتال کی جانب سے بھی بچی کے والد کے علاج کے بل کی رقم کم کر دی گئی تاکہ مالی بوجھ کم ہوسکے۔
بچی کے والد کو کچھ دن بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور اس موقع پر اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے مگر کئی بار اسے کسی کی ضرورت پڑتی ہے۔
والد کے مطابق ‘میں بیٹی کو اسپتال لے آتا ہوں کیونکہ ابھی اس کی سردیوں کی چھٹیاں ہیں اور گھر میں اس کا کوئی خیال رکھنے والا نہیں’۔

























Leave a Reply