اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2010 میں وفاقی دارالحکومت میں نجی ائیر لائن کے طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ کو 5 ارب 41 کروڑ 78 ہزار روپے ہرجانے کی رقم ادا کرنےکا ماتحت عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے اس پر عملدرآمد روک دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے نجی ائیر لائن کی درخواست پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا 13 دسمبر 2025 کا فیصلہ معطل کر دیا جس میں ائیرلائن کو تقریباً ساڑھے 5 ارب روپے ہرجانے کے طور پر متاثرین کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
عدالت نے نجی ائیر لائن کی درخواست پر حکم امتناع جاری کردیا ۔ عدالت نے نوٹس جاری کرکے فریقین کو 23 اپریل تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے کہا ہےکہ درخواست گزار کے وکیل ہر سماعت پر پیش ہوں ورنہ حکمِ امتناع واپس لے لیا جائےگا۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے نجی ائیر لائن کی 12 دسمبر 2022 کے فیصلے کے خلاف اپیل خارج کر دی تھی۔ عدالت نے حادثے کے متاثرین کی فیملیز کی اپیلیں منظور کر لی تھیں ۔
عدالت نے نجی ائیر لائن کی 8 اپیلیں خارج کی تھیں ۔ عدالت نے نجی ائیر لائن کو رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ نجی ائیر لائن نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کورٹ کے 13 دسمبر 2025 کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔


























Leave a Reply