گوگل کی سرپرست کمپنی الفابیٹ کے چیف ایگزیکٹو (سی ای او) سندر پچائی کی آمدنی میں حیران کن حد تک اضافہ ہونے والا ہے۔
امریکی حکومت کے پاس جمع کرائی گئی ریگولیٹری فائلنگ سے انکشاف ہوا کہ آئندہ 3 برسوں میں الفابیٹ کی جانب سے سندر پچائی کو اربوں روپوں کا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
یو ایس سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمپیشن میں جمع کرائی گئی فائلنگ کے مطابق اگلے 3 برسوں میں سندر پچائی کو 69 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز (ایک کھرب 92 ارب پاکستانی روپے سے زائد) کمپنی کی جانب سے ادا کیے جائیں گے۔
اس میں سے زیادہ تر معاوضہ کارکردگی سے منسلک ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ تنخواہ کے اس پیکج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ 3 برسوں میں الفابیٹ کے نئے منصوبے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
ان کے پیکج کا اسٹرکچر 2022 کے پیکج سے ملتا جلتا ہے مگر اس بار نئی مراعات کو اس کا حصہ بنایا گیا ہے۔
ان کی آمدنی کا زیادہ انحصار خودکار گاڑیوں پر کام کرنے والی الفابیٹ کی ذیلی کمپنی Waymo سے منسلک ہے۔
اگر اس کی مالیت میں آئندہ 3 برسوں کے دوران اضافہ ہوا تو سندر پچائی کو حصص کی شکل میں 26 کروڑ ڈالرز ملیں گے۔
اسی طرح ڈرون ڈیلیوری کمپنی ونگ کی اچھی کارکردگی پر سندر پچائی کو 9 کروڑ ڈالرز ادا کیے جائیں گے۔
کمپنیوں کی کارکردگی سے ہٹ کر الفابیٹ کی جانب سے 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز اسٹاک کی شکل میں دیے جائیں گے جبکہ دیگر 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز اس وقت دیے جائیں گے، اگر سندر پچائی آئندہ 3 برسوں کے دوران کمپنی کوچھوڑتے نہیں۔
اتنے بڑے پیکج کے باوجود ان کی بنیادی سالانہ تنخواہ محض 20 لاکھ ڈالرز ہے جو 2020 سے ایک ہی جگہ رکی ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ سندر پچائی نے 2004 میں پراڈکٹ منیجمنٹ کے شعبے میں نائب صدر کی حیثیت سے گوگل میں شمولیت اختیار کی تھی ، جبکہ گوگل کروم براؤزر اور آپریٹنگ سسٹم کی ٹیم کی سربراہی بھی کرتے رہے۔
2015 میں انہیں گوگل سرچ انجن کا سی ای او بنایا گیا جبکہ 2019 میں سندر پچائی کو الفابیٹ کا سربراہ بنا دیا گیا۔

























Leave a Reply