ستمبر 2022 میں امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک اسپیس کرافٹ کو دانستہ طور پر ایک چھوٹے سیارچے ڈیمورفس سے ٹکرایا تھا۔
ستمبر 2022 میں ناسا کے تجرباتی ڈارٹ مشن کے تحت اسپیس کرافٹ کو سیارچے سے ٹکرایا گیا جس کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ مستقبل میں زمین کو اگر کسی سیارچے سے خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اسے تحفظ فراہم کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔
اس ڈارٹ مشن کے تحت اسپیس کرافٹ کو ٹکرا کر سیارچے کے مدار کے راستے میں معمولی تبدیلی لائی گئی تھی۔
اب لگ بھگ 3 سال سے زائد عرصے بعد ناسا کی جانب سے اس تجرباتی مشن کے حوالے سے تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے۔
اس نئے ڈیٹا کے مطابق تجرباتی مشن کے ٹکرانے کے 770 دن بعد اس سیارچے کے مدار کا راستہ تبدیل ہوگیا ہے۔
جرنل سائنس ایڈوانسز میں شائع تحقیق کے مطابق مشن ٹکرانے کے بعد سیارچے کی رفتار میں ہر گھنٹے 1.7 انچ کی تبدیلی آئی اور وقت کے ساتھ یہ معمولی تبدیلی سیارچے کے مدار کو مکمل طور پر بدل دے گی۔
محققین کے مطابق اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈارٹ مستقبل میں زمین کو اس سیارچے سے تحفظ فراہم کرسکے گا جس سے ہمارے سیارے کو خطرہ لاحق ہوگا۔
یہ پہلی بار تھا جب انسانوں کی جانب سے ایک گردش کرتے خلائی سیارچے کو مدار سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں زمین کو کسی بڑے سیارچے کے ٹکراؤ سے بچایا جاسکے۔
ڈارٹ اسپیس کرافٹ 23 ہزار 500 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سیارچے سے ٹکرایا تھا۔
یہ واضح رہے کہ ڈیمورفس زمین کے لیے خطرہ نہیں تھا مگر ڈارٹ مشن زمین کے دفاع کا پہلا ٹیسٹ تھا۔
سائنسدان پہلے ہی ایسے بیشتر سیارچوں کو شناخت کرچکے ہیں جو زمین کو تباہ کرسکتے ہیں، مگر فی الحال ان میں سے کوئی بھی ہمارے سیارے کے لیے خطرہ نہیں۔
مگر سائنسدانوں کو ڈر ہے کہ ہزاروں چھوٹے سیارچوں میں کوئی ایک کسی دن زمین کی جانب بڑھ سکتا ہے اور اس کا ٹکراؤ تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔
ڈارٹ اسپیس کرافٹ کو امریکا کی جونز ہوپکنز یونیورسٹی نے تیار کیا اور اسے ڈیمورفس کی جانب نومبر 2021 میں روانہ کیا گیا۔
ناسا کا خیال ہے کہ کسی سیارچے کے مدار میں معمولی تبدیلی بھی وقت کے ساتھ بڑی ثابت ہوسکتی ہے اور خلائی چٹان کو زمین کے راستے سے ہٹانے کے لیے کافی ثابت ہوسکتی ہے۔


























Leave a Reply