فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے ہال کے اندر کالا چشمہ پہنا تو یہ منظر سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
تاہم صدر میکرون کا چشمہ پہننا کسی فیشن یا علامتی انداز کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک طبی وجہ موجود تھی۔
امریکی اخبار کے مطابق صدر میکرون نے نیلے رنگ کے ایوی ایٹر طرز کے چشمے اس لیے پہنے کیونکہ وہ آنکھ کے ایک طبی مسئلے کا شکار ہیں۔
اپنی 18 منٹ کی تقریر کے دوران صدر میکرون نے چشمہ پہننے کی وضاحت نہیں کی۔ یہ چشمہ پہلی بار گزشتہ ہفتے اس وقت دیکھا گیا تھا جب انہوں نے فرانس کی مسلح افواج سے نئے سال کے موقع پر خطاب کے دوران اپنی دائیں آنکھ میں سوجن کے باعث چشمہ پہنا تھا۔
اس خطاب میں انہوں نے عارضی طور پر چشمہ اتار کر کہا تھا کہ ان کی آنکھ کی حالت دیکھنے میں اگرچہ اچھی نہیں لگتی، لیکن یہ بالکل بے ضرر ہے۔
فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر میکرون کی آنکھ میں خون کی باریک رگ پھٹ گئی تھی جسے طبی اصطلاح میں سب کونجَنکٹائیول ہیمریج کہا جاتا ہے، جو چوٹ، شدید کھانسی یا چھینک، بلند فشارِ خون یا خون کو پتلا کرنے والی ادویات کے استعمال سے ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ کیفیت عموماً بغیر علاج کے دو ہفتوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے صدر میکرون کے چشمے کو ایک سیاسی پیغام قرار دیا، جس کے ذریعے وہ امریکا کی جانب سے فرانسیسی شراب اور شیمپین پر ممکنہ بھاری محصولات اور گرین لینڈ سے متعلق دھمکیوں کے مقابلے میں سخت مؤقف ظاہر کر رہے تھے۔
صدر میکرون ماضی میں بھی اپنے لباس کے ذریعے پیغام دیتے رہے ہیں، جیسے 2022 میں یورپ کو توانائی بحران کا سامنا ہونے پر انہوں نے ٹرٹل نیک سویٹر پہن کر عوام سے سادگی اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔
کچھ افراد نے چشمہ پہنے صدر میکرون کا موازنہ فلم ’ٹاپ گن‘ میں ٹام کروز کے کردار سے کیا، جبکہ بعض کو سابق امریکی صدر جو بائیڈن یاد آئے جو ایوی ایٹر چشمے پہننے کے شوقین تھے۔
اخبار کے مطابق صدر میکرون کے دفتر کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

























Leave a Reply